.

چیچن صدر قادریوف پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں امریکا کی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے روس کی مسلم اکثریتی جمہوریہ چیچنیا کے صدر رمضان قادریوف پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوّث ہونے کے الزام میں پابندیاں عاید کردی ہیں۔

43 سالہ رمضان قادریوف چیچنیا کے مرد آہن قرار دیے جاتے ہیں۔ ان پر چیچنیا کے امور کو ایک ریاست کے بجائے ذاتی جاگیر کے طور پر چلانے کا الزام ہے۔وہ اپنے مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے اپنی ذاتی سکیورٹی فورسز کو استعمال کرتے ہیں۔انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیموں نے چیچن صدر اور ان کے نائبین پر اپنے مخالفین کو اغوا کرنے ،ان پر تشدد اور انھیں قتل کرانے ایسے سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ رمضان قادریوف کے بارے میں گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں سمیت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوّث ہونے کی کثیر اور قابل اعتباراطلاعات موجود ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا ہے کہ امریکا کی پابندیاں کا اطلاق قادریوف کی اہلیہ اور ان کی دو بیٹیوں پر بھی ہوگا اور امریکا اپنے اتحادیوں کی چیچن صدر کے خلاف ایسی ہی پابندیاں عاید کرنے پر حوصلہ افزائی کرے گا۔

واضح رہے کہ روس نے جمہوریہ چیچینا میں نوّے کے عشرے میں علاحدگی پسندوں کے خلاف دو خونریز جنگوں کے بعد رمضان قادریوف کی بھرپور طریقے سے معاونت کی ہے اور اس مسلم اکثریتی جمہوریہ میں قیام امن اور استحکام کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے فراخدلانہ امداد اور زر تلافی دیا گیا ہے۔ان کی حکمرانی کے خلاف عالمی حلقے انگشت زنی کرتے رہتے ہیں لیکن روس اس تنقید کو مسترد کرتا چلا آرہا ہے۔

واضح رہے کہ روس کی حزب اختلاف نے رمضان قادریوف پر 2015ء میں کریملن کے شدید ناقد بورس نیمتسوف کے قتل کے واقعے میں بھی ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن چیچن لیڈر نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا جبکہ کریملن نے اس معاملے میں ان کا ساتھ دیا تھا۔

چیچنیا کی سکیورٹی فورسز کے ایک افسر پر نیمتسوف کو کریملن سے متصل ایک پُل پر گولی مارنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور عدالت نے اس افسر کو قصور وار ثابت ہونے پر بیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔