افغانستان : طالبان کا خودکش کار بم حملہ ،آٹھ فوجی ہلاک ، نو زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے وسطی صوبہ وردک میں فوجیوں کے ایک قافلے پر خودکش کار بم حملے میں آٹھ فوجی ہلاک اور نو زخمی ہوگئے ہیں۔طالبان نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

افغان وزارت دفاع نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وردک کے ضلع سیّد آباد میں کار سوار بمبار نے فوجیوں کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے۔اس نے دھماکے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

طالبان نے ایک بیان میں اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں افغان خصوصی فورسز کے درجنوں اہل کار ہلاک ہوگئے ہیں۔

طالبان اور افغان فورسز نے حالیہ ہفتوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ایک دوسرے پر حملوں اور تشدد کے واقعات میں اضافے کے الزامات عاید کیے ہیں۔ان تشدد آمیز کارروائیوں میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست امن مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

افغانستان میں تشدد میں کمی کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطرکے دارالحکومت دوحہ میں سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت امریکی اور دوسری غیرملکی فورسز جولائی 2021ء تک افغانستان سے نکل جائیں گی لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ طالبان مختلف سکیورٹی ضمانتوں کی پاسداری کریں گے اور افغان حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں گے۔

دوحہ سمجھوتے کے تحت کابل حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو چھوڑنے کے بدلے میں طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔تاہم افغان حکام کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت نے اب تک طالبان کے 4400 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

لیکن افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن بات چیت قریباً چھے سو طالبان قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر تاخیر کا شکار ہورہی ہے۔طالبان ان کی رہائی کے بغیر مذاکراتی میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں جبکہ کابل حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد بڑے حملوں میں ملوّث رہے تھے۔اس لیے انھیں رہا نہیں کیا جاسکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں