.

لیبیا میں لڑائی ہمارے مفاد میں نہیں، مصر سے بات چیت کی جائے: داود اوگلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں کئی مہینوں سے ترکی مداخلت کے بعد فیوچر پارٹی کے سربراہ اور سابق ترک وزیر اعظم احمد دائود اوگلو نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوآن سے مطالبہ کیا کہ وہ مصر کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے کام کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبیا میں جنگ ہمارے مفاد میں نہیں۔

ترکی کی نیوز ویب سائٹ" نائو ترکی" کے مطابق صدر ایردوآن کے سابق ساتھی اور موجودہ حریف احمد دائود اوگلو نے کہا کہ ضرورت پڑتی ہے تو انقرہ کو مصر کے ساتھ بات چیت کے لیے میز پرآنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں بات کرنی چاہیئے۔

لیبیا میں مصر اور ترکی کے درمیان تصادم ترکی کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ترکی لیبیا سے نکل جائے مگر ہمیں اس معاملے کو عقل مندی سے حل کرنا ہو گا۔ مصر اور دوسرے ممالک یہ چاہیں گے کی لیبیا میں ان کے لیے میدان خالی چھوڑا جائے۔ ایسے میں ہمیں جنگ کے بجائے بات چیت کی راہ اختیار کرنا ہو گی۔

اسی سیاق و سباق میں سابق ترک وزیر اعظم نے اپنے ملک کے صدر کو لیبیا میں "عقلمند" انداز میں جنگ کا اختتام کرنےکا مشورہ دیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ ہمیں لیبیا کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور مغربی لائن کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی توجہ دینے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس لیبیا میں یوروپی یونین کا واحد نمائندہ نہیں لہٰذا ترکی کو اٹلی اور جرمنی کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہیئے۔

انہوں نے ایردوآن کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور روس کے اثرات میں اضافے کے نتائج کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ روسی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ان سے کہو کہ وہ ہمیں شام میں تعاون کرتا ہے مگر لیبیا میں ہمارے خلاف لڑ رہا ہے۔ یہ پالیسی ترک کی جائے۔