.

ایران اور حزب اللہ پر آخری درجے کا دباو ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان جیرالڈائن گریفتھ نے بدھ کے روز 'العربیہ' ٹیلی ویژن کو بتایا کہ واشنگٹن تہران کو اسلحے کے حصول سے روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا لبنان کی حمایت کرنے کے ساتھ متوازی طور پر حزب اللہ پر دباؤ ڈال رہا ہے جب کہ امریکی حکام کی لیبیا کے تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

امریکی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ "ایران کو ہتھیاروں کے حصول سے روکا جانا چاہئے واشنگٹن تہران کو کسی بھی جوہری یا بیلسٹک ہتھیار کی تیاری اور اسے حاصل کرنے سے روکنے کے لیے کوشاں ہے"۔

منگل کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے زور دے کر کہا تھا کہ امریکا ایران پر اسلحے کے پابندی کو اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔

پومپیو نے برطانیہ کے دورے کے دوران منگل کے روز کہا کہ انہوں نے ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے۔

امریکی ترجمان نے وضاحت کی کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دبائو متعدد ممالک میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کی مالی مدد میں رکاوٹ ہے۔

تہران کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں امریکی ترجمان نے کہا ہے کہ پابندیوں نے ایران سے متعدد کمپنیاں ہٹا دیں۔ لبنانی حزب اللہ کے حوالے سے انہوں‌ نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک حزب اللہ پر سخت اقتصادی دباؤ ڈال رہا ہے۔

انہوں نے دوسرے ممالک سے حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکا کے ساتھ شامل ہونے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا حزب اللہ کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے متوازی طور پر لبنانیوں کی حمایت کرتا رہے گا۔