.

بھارت کے معاشی دارالحکومت ممبئی میں کرونا سے بچائو کے لیے اسمارٹ ہیلمٹ کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے معاشی دارالحکومت اور گنجان آباد شہر ممبئی میں جہاں ایک طرف بڑے پیمانے پر کرونا کے کیسز سامنے آئے ہیں وہیں حکومت کی طرف سے انسداد کرونا کے لیے بھی مختلف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ حفاظتی اقدمات میں ایک نئی چیز کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور وہ اسمارٹ ہیلمٹ کا استعمال ہے۔

یہ ہیلمٹ ، جو پہلے چین اور اٹلی میں استعمال ہوچکا ہے اب ممبئی میں خریدا جا رہا ہے۔ اس ہیلمٹ کی مدد سے ایک منٹ میں دسیوں افراد کا درجہ حرارت چیک کیا جا سکتا ہے یہ ہیلمیٹ 18 ملین آبادی والے اس وسیع شہر میں کرونا وبا کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کا مناسب طریقہ ہو سکتا ہے۔

"ہندوستانی جین سنگتھانا تنظیم کے رضاکار نیلو جین نے بتایا کہ ٹمپریچر کی جانچ کے روایتی طریق کار میں کافی وقت لگتا ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو بتایا جب آپ 20،000 آبادی والے شین ٹاؤن میں جاتے ہیں تو 300 افراد کا درجہ حرارت چیک کرنے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔

جین نے مزید کہا کہ اگر آپ اسمارٹ ہیلمٹ استعمال کرتے ہیں تو آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے نکالیں اور ان کے سامنے کھڑے ہوں ، اور پھر آپ ڈھائی گھنٹے میں 6000 افراد کی جانچ کر سکتے ہیں۔

ممبئی شہر کو پڑوسی شہر پونے کی طرف سے بطور تحفہ 600،000 روپیہ (تقریبا$ 8،050 ڈالر) چار "سمارٹ ہیلمٹ" حاصل فراہم کیے گئے ہیں۔

جمعہ کے روز بھارت امریکا اور برازیل کے بعد کوڈ ۔ 19 وائرس کے متاثرین میں تیسرے نمبر پرآگیا۔ اب تک بھارت کی دس لاکھ آبادی کرونا کا شکار ہو چکی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تعداد متاثرہ افراد کی اصل تعداد سے بہت کم ہے کیونکہ بھارت میں ٹیسٹ کروانے کی شرح بہت کم کم ہے۔ بھارت میں اب تک 28 ہزار افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔