.

سعودی عرب :بدعنوان ججوں، سرکاری ملازمین اورعام افراد کو قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک عدالت نے رشوت ستانی، بدعنوانیوں اوراختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق پانچ مقدمات میں ماخوذ دو ججوں سمیت مختلف ملزموں کو قصور وار قرار دے کر لمبی قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی نے کنٹرول اور اینٹی کرپشن اتھارٹی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عدالت نے رشوت لینے پر ایک جج کو چار سال قید اور ایک لاکھ 30 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی ہے۔اسی مقدمے میں دلال کا کردار ادا کرنے والے مجرم کو پانچ ماہ قید اور 20 ہزار ریال (5333 ڈالر) جرمانے کی سزا کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ایک اور مقدمے میں ماخوذ ایک اور جج کو اپنے عہدے کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے پر چار سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس جج کو رشوت دینے والے شہری کو چار سال قید اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

تیسرا مقدمے میں ایک شہری کو دو تارکین وطن سے ان کی ملک بدری کے احکامات کو منسوخ کرانے کے بدلے میں 8 لاکھ ریال لینے کے جرم میں ماخوذ کیا گیا تھا۔ان دونوں تارکین وطن پر بھی رشوت میں بھاری رقم دینے ، منی لانڈرنگ اور کاروبار کو چھپانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق اس شہری کوناجائز طور پر رقم لینے کے جرم میں دو سال قید اور دونوں تارکین وطن اور ان کے آجر کو ڈھائی ، ڈھائی سال قید کی سزا سنائی ہے۔ان تینوں کو 20 ہزار ریال فی کس جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ دونوں تارکین وطن کو قید کی سزا پوری ہونے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ حکام نے سعودی شہری سے برآمد ہونے والی 8 لاکھ ریال کی رقم ضبط کر لی ہے۔

چوتھا مقدمہ محکمہ تعلیم کے دو ملازمین سے متعلق ہے۔ان پر سرکاری رقوم میں غبن ، جعل سازی ، منی لانڈرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر فرد جرم عاید گئی تھی۔ ان میں سے ایک مجرم کو 10 سال قید کی سزا اور 10 لاکھ 20 ہزار ریال جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کو غبن شدہ ایک کروڑ 32 لاکھ ریال کی رقم واپس کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نےاسی مقدمے میں ماخوذ دوسرے سرکاری ملازم کو نوماہ جیل اور 20 ہزار ریال جرمانے کی سزا سنائی ہے اور اس کو غبن شدہ 20ریال کی رقم بھی سرکاری خزانے میں واپس جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

پانچویں مقدمے میں مکانات اور تعمیرات کی وزارت کے دو ملازمین ، ان میں سے ایک کے بھائی اور ایک کاروباری شخصیت پر رشوت ستانی ، منی لانڈرنگ اور سرکاری حیثیت کے ناجائز استعمال کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

عدالت نے ان میں سے ایک ملازم کو آٹھ سال قید اور 20 لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنائی ہے۔حکومت نے اس کی رشوت میں لی گئی اراضی اور617819 ریال کی رقم بھی ضبط کر لی ہے۔اس پر چار سال تک بیرون ملک جانے پر پابندی ہوگی۔

دوسرے ملازم کو بھی آٹھ سال قید اور 20 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔اس سے پکڑی گئی 1007709 ریال کی رقم عدلت نے ضبط کر لی ہے اور اس پر چار سال تک بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

اس مقدمے میں ماخوذ تیسرے شخص کو چار سال قید اور 10 لاکھ ریال جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔ وہ مذکورہ دونوں سرکاری ملازمین میں سے ایک کا بھائی ہے۔اس مقدمے میں ملوث کاروباری شخص کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اوراس پر پانچ لاکھ ریال جرمانہ عاید کیا گیا ہے۔