.

سال 2021ء کے وسط سے قبل کرونا ویکسین کا حصول متوقع نہیں : عالمی ادارہ صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دسمبر 2019ء میں چین میں کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کے 1.5 کروڑ سے زیادہ مصدقہ کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔

چند روز پہلے کرونا کی ویکسین کے حوالے سے خوش آئندہ اور امید افزا نتائج سامنے آئے تاہم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپنے حالیہ اعلان میں ایک بار پھر مایوسی پھیلا دی ہے۔

ادارے کے ہنگامی پروگرامز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک ریان کا کہنا ہے کہ "آئندہ برس کا پہلا حصہ گزرنے سے قبل کرونا وائرس کی ویکسین کی توقع نہ رکھی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو ویکسین حاصل ہونے تک اگلے سال کا پہلا حصہ مکمل ہو چکا ہو گا"۔

مائیک ریان کا مزید کہنا تھا کہ "محققین کرونا وائرس سے متاثر نہ ہونے کے لیے مطلوبہ ویکسین کی تیاری میں بڑی پیش رفت کو یقینی بنا رہے ہیں اور ان میں سے بعض تو آخری مرحلے کے تجربات میں ہیں ،،، تاہم سال 2021 کے اوائل سے قبل ان کے استعمال کے آغاز کی توقع رکھنا ممکن نہیں ہے"۔

عالمی ادارہ صحت کے عہدے دار نے خبردار کیا کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کو دوبارہ سے نارمل طریقے سے اپنا کام انجام دینے میں طویل وقت درکار ہو سکتا ہے۔ کرونا کے نتیجے میں صحت یابی کے بعد تھکن کا سامنا ہونے کے علاوہ نوجوان ہونے کے باوجود ورزش یا کھیلوں کی سرگرمیوں میں برداشت کی کمی درپیش ہو سکتی ہے۔

مائیک ریان کے مطابق ان اثرات کے باعث مریض کے مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔