.

عازمینِ حج کا مکہ مکرمہ میں خیرمقدم، کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں اس مرتبہ فریضۂ حج ادا کرنے والے خوش نصیبوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور سعودی حکام نے ان کے پہلے گروپ کا مکہ مکرمہ میں خیرمقدم کیا ہے۔

ان عازمین کا ایک خودکار طریقے سے انتخاب کیا گیا ہے۔انھیں مناسکِ حج کے آغاز سے قبل مکہ مکرمہ میں ایک مخصوص ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا۔ البتہ شہر کے قرب وجوار میں رہنے والے منتخب عازمین کو ہوٹل میں قیام کی ضرورت نہیں۔

سعودی حکومت نے اس مرتبہ کرونا وائرس کی وَبا کی وجہ سے صرف مملکت میں مقیم شہریوں اور مکینوں ہی کو حج کی اجازت دی ہے۔سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن کا کہنا ہے کہ ان کا انتخاب اٹکل پچو خودکار طریقے سے کیا گیا ہے اور اس عمل میں کوئی انسانی کردار کارفرما نہیں تھا۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جولوگ اس سال حج ادا کریں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کا لاکھوں، کروڑوں لوگوں میں سے انتخاب کیا ہے۔یہ کوئی انسانی انتخاب نہیں تھا بلکہ یہ ایک خدائی انتخاب ہے اور محدود تعداد میں عازمین فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔‘‘

سعودی عرب کے دور دراز شہروں میں رہنے والے منتخب عازمین کو طیارے کے ذریعے پہلے جدہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منتقل کیا گیا ہے،وہاں ان کی مکمل سکریننگ کی گئی اور اس کے بعد انھیں بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ میں لایا گیا ہے۔وہ اپنے ہوٹل میں 29 جولائی کو مناسک حج کے آغاز سے قبل تک الگ تھلگ رہیں گے۔

عازمین وہاں قیام کے دوران میں ہر وقت اپنے چہروں پر ماسک پہن کررکھیں گے۔ ہوٹل میں داخلے پر ان کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا گیا ہے۔تمام عازمین اس ہوٹل کے نزدیک ایک مخصوص جگہ جمع ہوں گے اور پھر انھیں وہاں سے مناسک حج کے لیے دوسرے مقامات منیٰ ، عرفات اور جمرات لے جایا جائے گا۔

وزارتِ حج و عمرہ نے عازمین کی صحت کے تحفظ کےلیے اس ہوٹل میں سخت احتیاطی تدابیر کا نفاذ کیا ہے۔ہر ایک عازم کو الگ الگ کمرا دیا گیا ہے۔ہاتھوں کی صفائی کے لیے الگ سینی ٹائزر مہیا کیے گئے ہیں اور سماجی فاصلے کے ضابطے کی سختی سے پاسداری کی جارہی ہے۔

سعودی حکام نے تمام عازمین حج کو مکہ مکرمہ میں آمد سے قبل اپنے ہی گھروں میں سات روز تک الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی تھی۔البتہ ایسے عازمین جو ماضی قریب میں کرونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے لیکن اب صحت یاب ہوچکے ہیں،انھیں قرنطین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ حج کے پہلے روز سے چندے قبل مکہ مکرمہ پہنچیں گے۔

واضح رہے کہ ان منتخب عازمین حج کی عمریں 20 اور 50 سال کے درمیان ہیں۔ان کے انتخاب کے عمل میں ان غیر سعودیوں کو ترجیح دی گئی ہے جو پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا تھے اور نہ انھوں نے ماضی میں حج کیا تھا۔ان کی تعداد 70 فی صد ہے۔

عازمین میں 30 فی صد سعودی شہری ہیں۔ان میں محکمہ صحت کے ان ورکروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو ترجیح دی گئی ہے جو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں خود بھی اس مہلک وَبا کا شکار ہوگئے تھے مگر بعد میں صحت یاب ہوچکے ہیں۔سرکاری طور پر حج کے لیے ان کے انتخاب کا مقصد ان کی خدمات کا اعتراف اور انھیں خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔