.

ایران کی فوجی مشقیں،خلیج عرب میں جعلی امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے پر نشانے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران خلیج عرب میں نئی جنگی مشقیں کررہا ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اس کی بحریہ نے اہم تجارتی آبی گذرگاہ آبنائے ہُرمز کے نزدیک ایک جعلی امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اور اس کی بحریہ ماضی میں بھی اپنی فوجی مشقوں میں امریکا کے جنگی بحری جہازوں کی طرز کے ڈمی جہازوں کو نشانہ بناتی رہی ہیں اور یہ ڈمی ہدف اب ان کی مشقوں کا لازمی حصہ ہوتا ہے۔ 2015ء میں ایران نے امریکا کے نیمز کلاس طیارہ بردار بحری بیڑے کی طرح کا بیڑا تیار کیا تھا اور اس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔

ایران خلیج عرب میں امریکا اور مغرب کی بحری افواج کی موجودگی کا مخالف ہے اور وہ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کا 30 فی صد خام تیل اسی اہم آبی گذرگاہ سے ہوکر گذرتا ہے۔

ایرانی بحریہ کی ان حالیہ مشقوں کی امریکا کی خلائی ٹیکنالوجی کی ایک فرم مکسر ٹیکنالوجیز نے 26 جولائی کو تصاویر لی تھیں۔ان میں ایک تصویر میں ایران کی ایک تیز رفتار جنگی کشتی آبنائے ہرمز میں امریکا کے جعلی طیارہ بردار ماڈل پر حملہ آور ہورہی ہے۔ایک اور تصویر میں اس جعلی بیڑے پر طیارے کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔

بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کی خاتون ترجمان کمانڈر ریبیکا ریبریخ کا کہنا ہے کہ ’’ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایران اس طرح کی جعلی مشقوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، یا ان کی ٹیکٹیکل کیا قدر ہے۔انھیں یہ امید ہوگی کہ اس طرح جارحانہ جنگی منظرنامے میں وہ جعلی نمونوں کے استعمال سے کچھ حاصل کر لیں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمیں اپنی بحری افواج پر دفاعی صلاحیتوں پر پختہ یقین ہے اور وہ کسی بھی خطرے کی صورت میں صلاحیت کی حامل ہے۔‘‘

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے اپریل میں یہ دھمکی دی تھی کہ اگر خلیج عرب میں اس کی سکیورٹی خطرے سے دوچار ہوئی تو خطے میں موجود امریکا کے جنگی بحری جہازوں کو تباہ کردیا جائے گا۔ایرانی حکام ماضی میں کئی مرتبہ اپنی تیل کی برآمدات پر پابندی کی صورت میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عہدے دار بھی ایران کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے رہتے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ آبنائے ہرمز کی بندش سرخ لکیر ہوگی اور امریکا اس کو دوبارہ کھلوانے کے لیے کارروائی کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران قانونی طور پر ازخود اس آبی گذرگاہ کو بند نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس کا کچھ حصہ عُمان کی آبی حدود میں واقع ہے۔تاہم یہاں سے آگے جانے والے تمام جہاز ایران کے پانیوں سے ہوکر گذرتے ہیں اور وہاں پاسداران انقلاب کی بحریہ افواج سکیورٹی کی ذمے دار ہیں۔