.

ایچ آر ڈبلیو کاحوثی ملیشیا پر ٹینکر سے تیل رسنے سے لاحق خطرات پر پابندی لگانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومین رائٹس واچ ( ایچ آر ڈبلیو) نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی شیعہ باغیوں پر اضافی پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے یہ مطالبہ بحیرہ احمر کے کنارے واقع یمنی بندرگاہ کے نزدیک لنگر انداز تیل بردار جہاز کو روکنے پر کیا ہے۔ اس جہاز پر 11 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا ہے اور اس کا سمندر میں رسنے کا خطرہ ہے۔

تنظیم نے حوثیوں پر زوردیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ماہرین کو ایف ایس او سیفر نامی اس آئل ٹینکر تک رسائی دیں مگر انھوں نے اپنے کنٹرول والے علاقے میں کھڑے اس ٹینکر تک اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو رسائی دینے سے انکار کردیا ہے۔

اقوام متحدہ نے اسی ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ اس جہاز سے ماحولیاتی ،اقتصادی اور انسانی تباہی رونما ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی گذشتہ پانچ سال کے دوران میں کوئی مرمت نہیں کی گئی ہے۔

ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ یہ ٹینکر پھٹ یا لیک ہوسکتا ہے اور اس سے بحیرہ احمر میں آبی حیات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ہیومین رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس ٹینکر سے تیل رسنے سے یمن میں جاری انسانی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے کیونکہ اس سے الحدیدہ کی بندرگاہ بند کرنا پڑے گی۔پانی اور خوراک تک رسائی متاثر ہوگی اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ کے ذریعے ہی لاکھوں یمنیوں کے لیے بیرون ملک سے غذائی اجناس درآمد کی جاتی ہیں اور پھر انھیں وہاں سے ملک کے دوسرے علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے گذشتہ ماہ اس تیل بردار جہاز کی داخلی دستاویزات کے حوالے سے بتایا تھا کہ سمندری پانی ٹینکر کے انجن کے حصے میں داخل ہوچکا ہے،اس سے پائپوں کو نقصان پہنچا ہے اور اس کے غرقاب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اے پی کی اس رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس ٹینکر کی مرمت ممکن نہیں رہی ہے کیونکہ اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔

حوثیوں کا یمن کی بحیرہ احمر کے مغربی حصے میں واقع بندر گاہوں پر کنٹرول ہے۔ان میں راس عیسیٰ کی بندر گاہ بھی شامل ہے۔اس سے 6 کلومیٹر دور جاپان ساختہ یہ ٹینکر لنگرانداز ہے۔