.

امریکا شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے سعودی عرب سےمل کرکام کررہا ہے:جوئیل رے برن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب معاون وزیرخارجہ اور خصوصی ایلچی برائے شام جوئیل رے برن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنے عرب شراکت داروں بالخصوص سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔امریکا نے بدھ کو سیزر ایکٹ کے تحت شامی صدر بشارالاسد کے بیٹے سمیت چودہ شخصیات اور اداروں کے خلاف نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔جوئیل رے برن نے ان پابندیوں کو’’ سیزر ایکٹ کا ثمر‘‘ قراردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام میں جاری بحران کے حل کی تلاش کے لیے ایک چھوٹا گروپ مل جل کر کام کررہا ہے،اس میں امریکا ، فرانس ، برطانیہ ، جرمنی کے ساتھ سعودی عرب ، مصر اور اردن شامل ہیں۔

امریکی ایلچی نے صحافیوں سے بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم شامی تنازع کے سیاسی حل کی تلاش کے لیے اپنے بڑے عرب شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے اور تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں۔‘‘

ان سے جب لبنان کی جانب سے امریکا کو شام سے بجلی کے حصول کے لیے پابندیوں سے استثنا دینے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’ اسد نظام لبنان کو درپیش بجلی کی مشکلات کا حل نہیں ہوسکتا۔اس کے بجائے لبنان اگر بجلی کی ضروریات کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کو سرتاپا اصلاحات کی ضرورت ہے۔‘‘

لبنان نے اس ضمن میں امریکا کو باضابطہ طور پر درخواست بھیجی ہے۔ایک لبنانی عہدہ دار نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ’’اس میں کچھ وقت تو لگے گا لیکن لبنان کو شام کے تعلق سے پابندیوں سے استثنا مل جائے گا۔‘‘