ایران پرسے ہتھیاروں کی پابندی اٹھائی گئی تو تہران کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہو گا:واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے باور کرایا ہے کہ اگر مستقبل میں ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کو اٹھایا گیا تو تہران کی جانب سے تباہ کن اور غیر ذمے دارانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

یہ موقف اقوام متحدہ میں امریکا کی خاتون مندوب کیلی کرافٹ کی زبانی سامنے آیا ہے۔ منگل کی شب ایک ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے سلامتی کونسل میں اپنے خطاب کی تصویر بھی منسلک کی۔ کیلی نے یاد دہانی کرائی کہ امریکا اور اس کے حلیفوں نے ایک ماہ قبل یمن کے پانی میں ایک جہاز کا انکشاف کیا تھا۔ ایرانی ہتھیاروں سے لدا ہوا یہ جہاز حوثیوں کی جانب گامزن تھا۔ امریکی خاتون مندوب نے باور کرایا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو مسلح کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں یمن کا تنازع طویل ہو گا۔

کیلی نے مزید کہا کہ "ایران اس وقت تنازعات بھڑکا رہا ہے جب کہ اسے پابندیوں کا بھی سامنا ہے لہذا یہ سمجھنا دیوانگی ہے کہ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ان تباہ کن کارروائیوں میں اضافہ نہیں ہو گا"۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو تقریبا تین ہفتے پہلے ایک اعلان میں ایرانی ہتھیاروں سے لدے ایک بحری جہاز کا انکشاف کر چکے ہیں جو حوثیوں کے واسطے جا رہا تھا۔ جہاز پر ہتھیاروں کی کھیپ میں 200 آر پی جی گرینیڈز، 1700 سے زیادہ کلاشنکوفیں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے 21 میزائل، متعدد ٹینک شکن راکٹس اور دیگر اسلحہ شامل تھا۔

واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 کے تحت ایران پر 13 برس سے ہتھیاروں کی پابندی عائد ہے۔ جوہری معاہدے کے مطابق یہ پابندی رواں سال 17 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔ تاہم امریکا اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ایران کی جانب سے موجودہ خلاف ورزیوں کی روشنی میں اس پابندی میں دائمی توسیع کر دی جائے۔

اس کے مقابل روس اور چین مذکورہ پابندی کی توسیع کے مخالف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں