.

لیبیائی فوج نے رابطہ کاری کے بغیر طیاروں اور بحری جہازوں کو نزدیک آنے سے خبردار کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کی جانب سے ایک انتباہی بیان جاری کیا گیا ہے۔ یہ بیان جنرل کمان کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا۔ بیان کے مطابق جن ممالک کے طیاروں اور بحری جہازوں کو لیبیا کی فضائی یا سمندری حدود کے نزدیک آنے کی اجازت ہے ،،، ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پیشگی رابطہ کاری انجام دیں تا کہ باہمی تصادم کے وقوع سے بچا جا سکے۔

یہ تنبیہہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ ترکی کے طیاروں اور بحری جہازوں کے ذریعے اجرتی جنگجوؤں اور ہتھیاروں کو وفاق حکومت کی ملیشیاؤں تک منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کارروائی لیبیا پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ذرائع نے بدھ کے روز تصدیق کی تھی کہ ترکی کے دو کارگو طیاروں نے لیبیا کے مغرب میں واقع الوطیہ فضائی اڈے پر اجرتی جنگجوؤں کو اتارا تھا۔ اس سے قبل یہ معلومات موصول ہوئی تھیں کہ الوطیہ کے فوجی اڈے سے آنے والا ترکی کا ایک فوجی طیارہ مصراتہ میں فوجی اڈے پر اترا۔ ذرائع کے مطابق یہ طیارہ جنگجوؤں اور ہتھیاروں کو مصراتہ لے کر آیا تھا تا کہ بعد ازاں انہیں سرت اور الجفرہ کے محاذوں پر منتقل کیا جا سکے۔

بدھ کو علی الصبح ملنے والی معلومات کے مطابق ترکی کی انٹیلی جنس کی ایک ٹیم براہ راست پرواز کے ذریعے ترکی سے لیبیا میں الوطیہ کے فوجی اڈے پہنچی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ترکی کی انٹیلی جنس کی ٹیم چند گھنٹے الوطیہ کے فوجی اڈے کے اندر گزار کر واپس ترکی روانہ ہو گئی۔ تاہم اس دورے کا مقصد سامنے نہیں آ سکا۔