.

کرونا کی وجہ سے 70 سال بعد کہ معظمہ کی خواتین کی 'یوم خلیف' کی سرگرمیاں متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا کی وبا نے فریضہ حج اور اس سے سے بڑی کئی دیگر سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر کی ہیں۔ حج کے موقعے پر ہر سال مکہ معظمہ میں خواتین کی سرگرمیوں کے حوالے سے یوم الخلیف منایا جاتا ہے۔ مگر 70 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ مکہ معظمہ میں 'یوم الخلیف' کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

ہر سال نو ذی الحج یوم عرفہ پر مسجد حرام میں سیاہ چادریں اوڑھیں خواتین کی بڑی تعداد مناسک حج کی ادائی کے لیے وہاں موجود ہوتی تھی۔ حج کے تمام مناسک میں خواتین کی بڑی تعداد دیکھنے میں آتی مگر اس بار اجتماعی دعا، خطبہ حج، حجر اسود کو بوسہ دینے اور دیگر مناسک میں خواتین غائب رہیں۔

مسجد حرام میں یوم الخلیف کے موقعے پر نہ صرف حج کے لیے آئی خواتین شامل ہوتی بلکہ مقامی رضا کار خواتین بھی اس میں پیش پیش ہوتیں۔ کعبہ کے پڑوس میں خواتین کی بڑی تعداد پورا پورا دن عبادت اور دعائوں میں مشغول رہتیں۔

مکہ مکرمہ کے مور سمیر برقہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الخلیف مکہ مکرمہ کی خواتین کا 70 سال سے چلی آرہی ایک روایت بن چکا ہے۔ الخلیف کا مطلب ایسے افراد جو حج تو نہیں کررہے ہیں مگر وہ حجاج کرام کے لیے کام کرتے ہیں۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ مرد حضرات یوم ترویہ پر مشاعر مقدسہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ عرفہ کے روز مکہ مکرمہ مردوں سے تقریبا خالی ہوجاتا ہے۔ اس موقعے پر خواتین گلی محلوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ مکہ کا رہنے والا کوئی مرد صرف عذر ہی کی وجہ سے حج کے ایام میں گھر میں قیام کرتا ہو۔

یوم الخلیف
یوم الخلیف