.

بھارت:کروناوائرس کے کیسوں کی تعداد ساڑھے 17 لاکھ سے متجاوز،مزید 853 اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں حکام نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے 54735 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اب ملک میں اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد ساڑھے 17 لاکھ سے متجاوز ہوگئی ہے۔

بھارت کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز 57118 نئے کیسوں کی اطلاع دی تھی اور اتوار کو کووِڈ-19 کا شکار 853 افراد کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ اب بھارت میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 37364 ہوگئی ہے۔

بھارتی حکومت کے ایک سرکردہ ماہر رندیپ گلیریا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اور ممبئی میں کرونا وائرس کی وَبا اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب ان دونوں شہروں میں یومیہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔

بھارت میں جولائی میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس ماہ کے دوران میں 11 لاکھ سے زیادہ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

مرکزی وزیرصحت ہرش وردھن کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔اس وقت کل مریضوں کے تناسب سے ہلاکتوں کی شرح 2۰18 فی صد ہے اور یہ شرح دنیا بھر میں کووِڈ-19 سے ہونے والی ہلاکتوں کے تناسب سے کم ترین ہے۔

اس وقت بھارت میں کووِڈ-19 کے فعال کیسوں میں صرف 0۰28 فی صد وینٹی لیٹرز پر ہیں۔1۰61 فی صد کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہے اور 2۰32 فی صد کو آکسیجن لگائی گئی ہے۔

دریں اثناء بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد انھیں ایک اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے اور وہاں انھیں الگ تھلگ رکھا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا میں چین کے بعد آبادی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے اور اس کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ کے آخر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی اور لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا جس سے دیہی تارکِ وطن ورکر اور دوسرے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

بھارت کے شہروں اور قصبوں میں لاک ڈاؤن کے بعد کاروباروں ، دکانوں اور صنعتوں کی بندش سے بے روزگار ہونے والے ہزاروں تارکِ وطن مزدوروں کو پیدل لمبا سفر طے کر کے اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنا پڑا تھا۔ وہ حالیہ مہینوں میں معاشی طور پر پس کر رہ گئے ہیں اور ان کی دلدوز کہانیاں منظرعام پر آئی ہیں۔