.

امریکا کا شامی کرد فورسز کے ساتھ تیل کے کنووں پر سمجھوتا ناقابلِ قبول : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ شامی کرد فورسز اور امریکا کی ایک کمپنی کے درمیان شام کے شمال مشرقی علاقے میں تیل کے کنووں سے متعلق طے پانے والا سمجھوتا بالکل ناقابل قبول ہے۔

ترکی امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) میں شامل بڑی کرد ملیشیا وائی پی جی کا شدید مخالف ہے۔اس کے بہ قول اس کرد ملیشیا کے ترکی کے جنوب مشرقی میں مسلح بغاوت برپا کرنے والی کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں سے تعلقات ہیں۔ایس ڈی ایف ہی نے مبیّنہ طور پر امریکا کی ایک تیل کمپنی کے ساتھ سمجھوتا طے کیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے:’’ پریس میں یہ رپورٹ ہوا ہے کہ پی کے کے / وائی پی جی دہشت گرد تنظیم کے کنٹرول میں شامی جمہوری فورسز نے امریکا میں قائم کمپنی ’ڈیلٹا کریسنٹ انرجی ایل ایل سی‘ کے ساتھ ایک کنٹریکٹ پر دست خط کیے ہیں۔‘‘لیکن ترک وزارت نے وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ کن رپورٹس کا حوالہ دے رہی ہے۔

اس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے:’ یہ ڈیل پی کے کے / وائی پی جی دہشت گرد تنظیم کے علاحدگی پسند ایجنڈے کی واضح مظہر ہے اور وہ شامی عوام کے قدرتی وسائل ہتھیانا چاہتی ہے۔اس فیصلے کا کوئی قانونی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور اس کو کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ جمعرات کو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے ایس ڈی ایف اور امریکی فرم کے درمیان آئیل فیلڈز کے بارے میں ایک ڈیل کا ذکر کیا تھا۔

ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ انھیں ایس ڈی ایف کے کمانڈر جنرل مظلوم عابدی نے امریکی کمپنی کے ساتھ ایک ڈیل پر دست خط کے بارے میں مطلع کیا ہے۔اس کے تحت شام کے شمال مشرقی علاقے میں واقع تیل کے کنووں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔

مائیک پومپیو نے کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی انتظامیہ اس سمجھوتے کی حمایت کرتی ہے،اس کے طے پانے میں ہماری توقع سے زیادہ وقت لگا ہے مگر اب ہم اس پر عمل درآمد کررہے ہیں۔

یادرہے کہ شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز سے قبل تیل کی یومیہ پیداوار 380000 بیرل کے لگ بھگ تھی۔2014ء میں بشارالاسد کی حکومت مشرقی صوبہ دیرالزور میں دریائے فرات کے مشرق میں واقع تیل کے بیشتر کنووں پر کنٹرول کھو بیٹھی تھی۔پہلے ان پر داعش نے قبضہ کر لیا تھا اور اب بعض کنووں پر ایس ڈی ایف کا کنٹرول ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے مشرقی شام میں تیل کے ان کنووں کا مشترکہ طور پر انتظام سنبھالنے کے بارے میں بات چیت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ ایس ڈی ایف سے ان کا کنٹرول واپس لے کر دونوں ممالک خود انتظام سنبھال لیتے ہیں۔روس شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہا ہے جبکہ ترکی شام کے باغی جنگجو گروپوں کا حامی ہے۔