.

ایران : 2017ء میں سپاہِ پاسداران انقلاب کے فوجی کی ہلاکت میں ملوّث شخص کو پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے 2017ء میں احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک فوجی کی ہلاکت میں ملوّث شخص کو پھانسی دے دی ہے۔

ایران کی ایک عدالت نے ملزم مصطفیٰ صالحی کو سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار سجاد شاہ سنائی کو گولی مارنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق مقتول کے والدین نے عدالت سے ملزم کو پھانسی دینے کی استدعا کی تھی۔اس کے بعد اس کو اصفہان میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی عدالتوں نے حالیہ مہینوں کے دوران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں بیسیوں افراد کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ان میں سے بعض کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

ایران بھر میں 2017ء کے آخر اور 2018ء کے اوائل میں ہزاروں افراد نے روزافزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ اس ملک گیر احتجاجی تحریک کے دوران میں تشدد کے واقعات میں اکیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ایرانی حکام کے مطابق ان مظاہروں میں حصہ لینے پر ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران میں اب پھر امریکا کی اقتصادی پابندیوں اور کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد عام آدمی معاشی مشکلات سے دوچار ہوچکا ہے۔سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایرانی نظام کے خلاف ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے اور ایرانیوں کو ایسی کسی تحریک میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ڈرانے دھمکانے کی غرض سے مصطفیٰ صالحی کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا ہے جبکہ ایرانی حکام نے اس نقطہ نظر کی تردید کی ہے۔

اوسلو میں قائم ایران انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’صالحی کی پھانسی پر عالمی برادری کی خاموشی کو مزید پھانسیوں کے لیے ہری جھنڈی سمجھا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ ایرانی عدلیہ نے حال ہی میں تین افراد کو تختہ دار پر لٹکانے کا عمل عوامی احتجاج کے بعد معطل کردیا تھا۔ان تینوں افراد کو گذشتہ سال نومبر میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔ان کی سزائے موت کے خلاف فارسی زبان میں ایران کے اندرون اور بیرون سے’’پھانسی نہ دو‘‘ کے ہیش ٹیگ سے لاکھوں ٹویٹ کی گئی تھیں۔