.

بیروت دھماکے : بندرگاہ کا لاپتا ملازم 30 گھنٹے بعد زندہ مل گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کو تباہ کن دھماکے کے بعد بندرگاہ کا لاپتا ہونے والا ایک ملازم تیس گھنٹے کے بعد زندہ حالت میں مل گیا ہے۔

ملازم امین الزاہد کی تصویر انسٹاگرام پر دھماکے کے بعد لاپتا افراد کی تلاش کے لیے بنائے گئے صفحے پر شائع کی گئی تھی۔مقامی میڈیا کے مطابق وہ خون آلود حالت میں بحر متوسط سے ملا ہے۔

ایک امدادی ٹیم نے اس کو اپنی کشتی کے ذریعے سمندر سے نکالا تھا اور اس کے بعد اس کو بیروت کے رفیق حریری یونیورسٹی اسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔سوشل میڈیا کی بعض تحریروں کے مطابق امین الزاہد کا خاندان اس تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

تاہم فوری طور پر اس کے بارے میں مزید تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے کہ وہ کیسے بچ پانے میں کامیاب ہوا ہے اور اس کی اس وقت حالت کیسی ہے۔

لبنانی حکومت نے بیروت میں بندرگاہ پر تباہ کن زور دار دھماکوں کی وجوہ کی تحقیقات شروع کررکھی ہے۔لبنانی حکام نے ان دھماکوں کے نتیجے میں جمعرات تک 145 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور پانچ ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لبنانی وزیراعظم حسان دیاب کا کہنا ہے کہ گودام میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ ذخیرہ تھی،اس کے پھٹنے سے زور دار دھماکا ہوا تھا لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ گودام میں ابتدا میں کیسے آگ بھڑک اٹھی تھی اور اس نے پھر دھماکے کی صورت میں آدھے بیروت شہر میں تباہی پھیلا دی تھی۔