دنیا کو کرونا سے زیادہ بُرے ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا ہو گا: بل گیٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مائیکروسافٹ کمپنی کے بانی ارب پتی امریکی شخصیت بل گیٹس نے پیش گوئی کی ہے کہ "ہمیں ایک ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا ہو گا جس کے اثرات کرونا وائرس سے زیادہ برے ہوں گے"۔

اس سے قبل امریکا میں National Institute of Allergy and Infectious Diseases کے سربراہ انتھونی واؤچے نے خبردار کیا تھا کہ لا محالہ آئندہ دنوں میں وبائیں اور بیماریاں سامنے آئیں گی۔ انگریزی اخبار "پولیٹیکو" کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کرونا کے علاوہ دیگر آنے والے وائرسز اور وباؤں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

بل گیٹس نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ "(کرونا کی) وبا جتنی بھی دہشت ناک ہو ، ماحولیات کی تبدیلی اس سے زیادہ بری ہو سکتی ہے"۔

بل گیٹس نے توقع ظاہر کی ہے کہ دنیا کو قریبی دہائیوں کے دوران ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرونا وائرس کے سبب اموات کا تناسب ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 14 افراد کی وفات تک پہنچ گیا ،،، جب کہ آئندہ 40 برسوں میں زمین پر درجہ حرارت بڑھنے کے سبب اموات کا تناسب سال 2100ء سے قبل 5 گُنا بڑھ جائے گا۔

بل گیٹس نے زور دیا کہ ماحولیات کی تبدیلی کا مقابلہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب ہیں۔ اس کے علاوہ اخراج کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لیے سائنسی ایجادات کا استعمال کیا جائے۔

مائیکروسافٹ کے بانی کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے اقدامات ترقی پذیر ممالک میں بھی کیے جانے چاہئیں۔ بل گیٹس نے واضح کیا کہ انسانیت کی پاس زیادہ وقت نہیں ہے اور اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں ایک سائنسی تحقیقی مطالعہ سامنے آیا تھا۔ اس کے نتائج میں بتایا گیا کہ 2070ء تک 3 ارب انسان غالبا ایسے درجہ حرات والے علاقوں میں رہ رہے ہوں گے جن کو "زندگی کے لیے غیر موزوں" قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان ماحولیاتی حالات کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اس ماحولیاتی "دائرہ کار" سے باہر ہیں جن میں انسان نے گذشتہ 6 ہزار سال کے دوران زندگی گزاری۔

مقبول خبریں اہم خبریں