افغان صدر پر تنقید 'لویا جرگہ' میں خواتین پر تشدد، جرگہ میدان جنگ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کل جمعے کے روز افغانستان میں "لویا جرگا" کے نام سے مشہور افغان مشاورتی ادارہ کے اجلاس میں "خواتین" پر تشدد کا مشاہدہ کیا گیا جس کا بہ ظاہر سبب صدر پر تنقید بتائی جاتی ہے۔ جرگے میں ہونے والی دھینگا مشتی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

ممبر پارلیمنٹ بلقیس روشن نے جرگے میں کابل کے تہران اور طالبان کے ساتھ تعلقات پر صدر اشرف غنی اور ان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے اجلاس میں ایک پوسٹر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا کہ "طالبان کو رائلٹی ادا نہ کرو"۔ جرگئے میں 3200 سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ اس جرگے کے انعقاد کا مقصد 400 طالبان قیدیوں کی قسمت کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا۔

لیکن حیرت انگیز طور پر بلقیس روشن پر حملہ صدر کے احامیوں کی طرف سے نہیں بلکہ ایک اور خاتون کی طرف سے کیا گیا۔ خاتون نے صدر غنی پر تنقید کی پاداش میں بلقیس کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ اس واقعے کے بعد اجلاس میںً مزید دھینگا مشتی ہوئی، جس کے بعد جرگے کی مزید کارروائی آج ہفتے کے روز تک ملتوی کردی گئی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اشرف غنی نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان کے آئین نے انہیں 400 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اختیار نہیں دیا تھا اور یہ کہ لویا جرگہ کو افغانستان میں قیام امن کی تیاریوں کے سلسلے میں اس بارے میں فیصلہ لینا چایئے۔

افغان پریس نے ملک کے سب سے خطرناک طالبان قیدیوں کے بارے میں بتایا ہےکہ 400 قیدیوں میں سے 156 افراد کو موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ ان میں سے 34 پر شہریوں اور فوجیوں کو اغوا کرکے قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔51 پر منشیات اسمگلنگ کا الزام اور 44 کو امریکا اس کے مغربی اتحادیوں نے بلیک لسٹ کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں