بیروت دھماکے: سابق اور موجودہ ڈی جی کسٹمز تفتیش کے لیے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنانی پولیس نے کل جمعہ کے روز لبنان کے موجودہ کسٹمز ڈائریکٹر جنرل بدری ضاہر اور سابق ڈائریکٹر جنرل کسٹمز شفیق مرعی کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد بیروت دھماکوں کے شبے میں گرفتار افراد کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔ گذشتہ منگل کے روز ہونے والے ان دھماکوں میں 137 افراد ہلاک اور 5 ہزارسے زاید زخمی ہوگئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایک جج نے بیروت میں رواں ہفتے ہونے والے مہلک دھماکے کے بارے میں ملک کے کسٹمز کے ڈائریکٹر جنرل سے پوچھ گچھ کی ، جس کے بعد جج نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا۔

نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا کہ تفتیشی جج غسان خوری نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز بدری ضاہر پوچھ گچھ کے بعد جمعہ سے حراست میں رہیں گے۔ بندرگاہ کے دیگر 16 عہدیداروں اور ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا۔

بیروت بندرگاہ میں بڑی مقدار میں امونیم نائٹریٹ کے دھماکے کے تین دن بعد ایجنسی نے گرفتاری کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ضاہر نے جمعرات کو ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ اس نے اور اس کے پیش رو نے چھ خطوط ارسال کیے تھے جن میں سے آخری 2017 میں ایک جج کو بھیجا تھا۔ ان مکتوبات میں بار بار متنبہ کیا کہ بندرگاہ پر موجود امونیم نائٹریٹ کا بھاری ذخیرہ خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے عدالتی عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ اسے ختم کرنے کے طریقہ کار پر فیصلہ جاری کریں۔

ضاہر نے کہا کہ ان کا فرض ہے کہ وہ خطرات سے متعلق حکام کو آگاہ کریں لیکن وہ اس خطرے کے بارے میں جو کچھ کرسکتے تھے کیا۔

جمعرات کے روز فوجی عدالت میں سرکاری کمشنر جج فادی عقیقی نے بیروت بندرگاہ میں عہدیداروں سمیت 16 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا۔عقیقی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیروت پورٹ بورڈ آف ڈائریکٹرز کسٹم انتظامیہ کے عہدیدار اور بحالی کے کام کے ذمہ داران اور وارڈ نمبر 12 میں ان کاموں کے نفاذ کرنے والے افراد سمیت اب تک 18 سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ اس گودام میں 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ محفوظ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں