.

سعودی عرب : بجلی کی فی کس کھپت میں 1993ء کے بعد پہلی مرتبہ نمایاں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بجلی کی فی کس کھپت میں 1993ء کے بعد پہلی مرتبہ نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔الیکٹریسٹی اینڈ کو جنریشن ریگولیٹری اتھارٹی (ایکرا) کے شائع کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس کی بڑی وجہ یہ ہوئی ہے کہ مملکت میں توانائی کی مسابقت اور باکفایت استعمال پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

سعودی عرب نے 2018ء میں توانائی کی داخلی کھپت میں کمی کے لیے بجلی اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کردیا تھا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں موسم گرما میں توانائی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے اور گرمی کے مہینوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری تک یا اس سے زیادہ ہوتا ہے۔

سعودی عرب کے سابق وزیر توانائی خالد الفالح نے گذشتہ سال دبئی میں منعقہ ایک کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اصلاحات پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد ہم نے عوام میں توانائی کے باکفایت استعمال کا رجحان ملاحظہ کیا ہے۔‘‘

ایکرا کے مطابق سعودی عرب میں 2014ء میں توانائی کی فی صارف کھپت 36۰9 کلوواٹ تھی۔پانچ سال کے بعد اس میں کوئی سات کلوواٹ کمی واقع ہوئی تھی اور 2019ء میں یہ مقدار29۰5 کلوواٹ رہ گئی تھی۔

سعودی عرب نے توانائی کے شعبے میں مسابقت اور باکفایت استعمال کے رجحان کے فروغ کے لیے مختلف منصوبے متعارف کرائے ہیں اور ان پر اس وقت عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ان میں خود مختار دولت فنڈ ،سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

سعودی عرب قابل تجدید توانائی کے 60 منصوبوں سے 2023ءتک ایک سال میں 9۰5 گیگا واٹ سالانہ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ان منصوبوں پر 30 سے 50 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔