.

بھارت:سابق صدر پرنب مکھرجی کووِڈ-19 کا شکار، 62 ہزار سے زیادہ نئے کیسوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے سابق صدر پرنب مکھر جی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

پرنب مکھرجی 2012ء سے 2017ء تک بھارت کے صدر جمہوریہ رہے تھے۔انھوں نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں خود کرونا وائرس کا شکار ہونے کی اطلاع دی ہے۔

وہ لکھتے ہیں:’’میں آج اسپتال میں کسی اور غرض سے گیا تھا لیکن میرا کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کیا گیا ہے تو یہ مثبت آیا ہے۔میری گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں مجھ سے رابطے میں رہنے والے تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ خود کو الگ تھلگ کر لیں اور کووِڈ-19 کا ٹیسٹ کرالیں۔‘‘

قبل ازیں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا بھی کووِڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد انھیں ایک اسپتال میں داخل کردیا گیا تھا۔

دریں اثناء بھارتی حکام نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے62064 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے اور اب ملک میں اس مہلک وائرس کا شکار افراد کی تعداد 22لاکھ سے متجاوز ہوگئی ہے۔ان میں سے کم سے کم 45 ہزار ہلاک ہوچکے ہیں۔

بھارت امریکا اور برازیل کے بعد کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے لیکن یہاں اس مہلک وائرس سے اموات کی شرح کم ہے۔

تاہم طبی ماہرین نے حکومت کے فراہم کردہ اعدادوشمار پر شکوک کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس مہلک کے مریضوں اور اس سے مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ان کے مطابق اب کرونا وائرس شہروں سے قصبوں اور دیہات میں پھیل رہا ہے اور آیندہ مہینوں میں اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت دنیا میں چین کے بعد آبادی کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے اور اس کی آبادی لگ بھگ ایک ارب تیس کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مارچ کے آخر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی اور لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا جس سے دیہی تارکِ وطن ورکر اور دوسرے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔

اب جون سے ان پابندیوں اور لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کی جارہی ہے اورحکومت نے لوگوں کو عبادت گاہوں میں جانےکی اجازت دے دی ہے اور بعض کاروبار بھی کھول دیے ہیں۔