.

شامی جنگجوؤں کی لیبیا میں ویڈیو، آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے پر ترک صدر کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ترکی کے مفادات کے لیے لڑنے والے شامی جنگجوؤں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے۔لیبیا کی سرزمین پر فلمائی گئی اس ویڈیو میں وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے استنبول میں واقع آیا صوفیہ کی تاریخی عمارت کو مسجد میں تبدیل کرنےکے فیصلے کی تعریف کررہے ہیں۔

اس ویڈیو میں سلطان سلیمان شاہ بریگیڈ کا ایک لوگو نظر آرہا ہے ۔ یہ ’’امشاط‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔اس میں پانچ سو شامی جنگجو نظر آرہے ہیں۔ وہ ترکی شامی جیش الحر اور صدر ایردوآن کی تصاویر لہرا رہے ہیں۔

فوٹیج پر ترک زبان میں آواز میں شامی جیش الحر کی سلیمان شاہ بریگیڈ کی جانب سے آیا صوفیہ میں پہلی نماز کی ادائی پر مبارک باد پیش کی جارہی ہے۔وہ صدرایردوآن ، ترک حکومت اور عوام کو مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

خارجہ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی فیلو ایلزبتھ سرکوف کا کہنا ہے کہ جغرافیائی محل وقوع کی ٹیکنالوجی کے مطابق یہ ویڈیو لیبیا ہی میں فلمائی گئی ہے۔اس میں شامی جنگجوؤں کا ایک بڑا گروپ نظر آرہا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’فوجی پریڈ میں کم سے کم پانچ سو جنگجو دیکھے جاسکتے ہیں۔وہ ترکی کے جھنڈے اور صدر ایردوآن کی تصاویر لہرا رہے ہیں۔‘‘

سرکوف کا کہنا ہے کہ شامی جیش الحر لیبیا میں اپنے جنگجوؤں کو بھیجنے کی تو تردید کررہا ہے جبکہ جغرافیائی محل وقوع سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ جنگجوؤں لیبیا ہی میں موجود ہیں۔

صدر ایردوآن کی حکومت نے گذشتہ ماہ آیا صوفیہ عجائب گھر کو ایک عدالتی حکم کے بعد دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔آیا صوفیہ کی عمارت چھٹی صدی عیسوی میں ایک کیتھڈرل کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔

ترکی نے لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے ساتھ بحرمتوسط کے مشرقی علاقے میں توانائی کی تلاش کے لیے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔ یورپی یونین ، یونان ، قبرص ، مصر اور دوسرے ممالک نے اس ڈیل کو مسترد کرچکے ہیں۔

ترکی نے حالیہ مہینوں کے دوران میں شام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں باغی جنگجوؤں کو لیبیا میں منتقل کیا ہے۔شامی باغیوں کو لیبیا میں وزیراعظم فایزالسراج کے زیر قیادت قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کی مدد و حمایت میں کمک کے طور پر تعینات کیا جارہا ہے۔

ترکی نے اپنے انٹیلی جنس ایجنٹوں کو بھی غیرملکی جنگجوؤں کے ساتھ لیبیا میں تعیناتی کے لیے بھیجا ہے۔ نیز ترکی نے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کو رات میں دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور دھماکا خیز اور بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے والے ڈیٹکٹر مہیّا کیے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن وزیراعظم فایزالسراج کے زیرِ قیادت قومی اتحاد (جی این اے) حکومت کی حمایت میں اپنے فوجی یونٹوں کو لیبیا میں تعیناتی کے لیے بھیج چکے ہیں۔

جی این اے کی فورسز لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کے خلاف نبرد آزما ہیں۔واضح رہے کہ لیبی قومی فوج کو اپریل 2019ء میں دارالحکومت طرابلس پر قبضے کے لیے وزیراعظم فایزالسراج کے زیر کمان فوج اور ملیشیاؤں کے خلاف جنگ برپا کی تھی لیکن ان کی یہ مہم کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔