.

کیا ایران میں کرونا وائرس کے صرف 5 فی صد کیس رپورٹ ہوئے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا وائرس کے کیسوں کی حقیقی تعداد کے بارے میں ابھی تک شکوک وشبہات کا سلسلہ جاری ہے۔ بعض ایرانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک میں چین سے آنے والے اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد متاثرین کی حقیقی تعداد ظاہر نہیں کی ہے اور صرف پانچ فی صد کیسوں کی تفصیل جاری کی ہے۔

ایرانی محکمہ صحت کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ حکومت نے کوئی ایک ماہ تک کرونا وائرس کی وَبا پر پردہ ڈالے رکھا تھا اور اس کی شہریوں اور بیرونی دنیا کو خبر نہیں ہونے دی تھی۔

ایران کی کرونا وائرس کے انسداد کے لیے قائم کردہ ٹاسک فورس کے رکن محمد رضا محبوب فر نے روزنامہ جہانِ سنت سے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ ایران کے سرکاری اعداد وشمار ’’ تراشیدہ‘‘ ہیں ،ان پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا اور یہ حقیقی اعداد وشمار کا بیس میں سے صرف ایک یعنی پانچ فی صد ہیں۔‘‘

اس روزنامے میں ان کا یہ انٹرویو اتوار کو شائع ہوا تھا۔ اب ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے سوموار کو یہ اطلاع دی ہے کہ اس انٹرویو کے چھپنے کے بعد حکومت نے اس اخبار کی اشاعت معطل کردی ہے۔

محبوب فر کا کہنا تھا کہ ’’ ایرانی حکومت نے سکیورٹی اور سیاسی وجوہ کی بنا پر ملک میں کرونا وائرس کی وَبا کو ایک ماہ تک چھپائے رکھا تھا اور 1979ء کی انقلاب کی سال گرہ اور فروری میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کے بعد اس کے کیسوں کا اعلان کیا تھا۔‘‘

قبل ازیں بھی بہت سی ایسی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی نظام نے ابتدا جان بوجھ کر ملک میں کرونا وائرس پھیلنے اور اس سے متاثرین کی خبروں کی پردہ پوشی کی تھی اور اپنے عوام کو اس کی ہلاکت خیزیوں کے حوالے سے درست معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔

ایرانی پارلیمان کی ایسی ہی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کرونا کی مہلک وَبا سے مرنے والوں کی تعداد وزارت صحت کے فراہم اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ نیز اس سے متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ سے دس گُنا زیادہ ہے۔

تاہم ایرانی صدر حسن روحانی اور دوسرے عہدے داروں نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی خبروں کو ہرگز سنسر نہیں کیا گیا۔البتہ ان کے نائب وزیر صحت رضا ملک زادہ نے 13 مارچ کو ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ حکومت نے عوام کو ملک میں کرونا وائرس پھیلنے کے بارے میں مطلع کرنے میں کچھ تاخیر کی ہے۔

بی بی سی نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں یہ الزام عاید کیا تھا کہ ایران میں جولائی کے دوسرے پندرھواڑے میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے تین گنا زیادہ تھی۔

ایران کی وزارت صحت کے مطابق سوموار تک ملک میں کووِڈ-19 سے مرنے والوں کی تعداد 18616 ہوچکی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 328844 ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ ایران چین کے بعد دوسرا اور مشرقِ اوسط کے خطے میں پہلا ملک تھا جو کرونا وائرس سے متاثر ہواتھا اور وہاں سے خلیجی ممالک اور پاکستان میں لوٹنے والے شیعہ زائرین اپنے ساتھ کرونا کی وبا بھی لے کر گئے تھے۔