.

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیس 2 کروڑ سے متجاوز !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان تصدیق شدہ کیسوں میں نصف سے زیادہ متاثرین امریکا، برازیل اور بھارت میں ہیں۔ رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق پیر کے روز تک دنیا بھر میں کرونا کے سبب اموات کی تعداد 7.28 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ تعداد دنیا بھر میں ہر سال انفلوئنزا کے سبب فوت ہونے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سانس سے متعلق اس مرض (کرونا) نے سالانہ شدید انفلوئنزا میں مبتلا ہونے والے افراد کی اوسط تعداد سے کم از کم 4 گُنا زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت میں صحت کے ہنگامی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے باور کرایا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس بعض دیگر وائرسز کی طرح موسم کی صورت حال سے وابستہ نہیں ،،، اس امر نے کرونا پر کنٹرول کو مشکل بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر مائیکل ریان نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اُن ملکوں کو بھی مشاورت پیش کر رہا ہے جہاں ایسا نظر آتا ہے کہ کرونا وائرس زیر کنٹرول ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ حکمت عملیوں پر عمل درامد کریں جن میں سماجی فاصلہ، چہرے پر ماسک اور علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گوشہ نشینی شامل ہے۔

ان مشکلات کی روشنی میں ایسا لگتا ہے کہ ماہرین اس بحران کے جلد خاتمے کے حوالے سے پُر امید نہیں رہے۔

اس سلسلے میں ایک جانب وقت کے تیزی سے گزرنے کا اندیشہ ہے تو دوسری جانب اختیار کی جانے والی پالیسی بھی خدشات کو ہوا دے رہی ہے۔ اسی واسطے ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں نے کام کو تیز کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ ریکارڈ مدت میں اور دیگر ویکسین کی تیاری کے معیار اور قواعد و ضوابط سے ہٹ کر تیار کی جانے والی کرونا وائرس کی ویکسین کو لوگ مسترد نہ کر دیں۔

امریکا میں گیلپ سروے میں ایک تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت کرونا کی ویکسین کا حصول نہیں چاہتے ہیں خواہ یہ مفت ہو اور فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی جانب سے اس کی منظوردی دی گئی ہو۔

امریکی جریدے "National Interest" کے مطابق صحت کے شعبے کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ اگر کرونا ویکسین کو گرین سگنل دے دیا گیا تو اس کی تاثیر کم ہو گی اور اس کے نتیجے میں یہ وبا زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ معیار سے ہٹ کر کوئی بھی ویکسین ممکنہ طور پر غیر متوقع خطرناک سائیڈ ایفیکٹس کا سبب بن سکتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں دنیا کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا کہ وہ انسانیت کو اس مرض سے بچانے والی ویکسین کے بارے میں سرکاری طور پر اعلان اور تصدیق شدہ نتائج کا انتظار کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں