.

امریکا: صدارتی انتخابات میں کمالا ہیرس ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن کی نائب ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوزف بائیڈن نے سینیٹر کمالا ہیرس کا اپنے ساتھ نائب صدارتی امیدوار کے طور پر انتخاب کیا ہے۔وہ امریکا کی کسی بڑی پارٹی کے ٹکٹ پر نائب صدارت کا انتخاب لڑنے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہوں گی۔

کمالا ہیرس نے اپنے انتخاب پر کہا کہ ’’انھیں یہ اعزاز بخشا گیا ہے اور وہ اس بات میں یقین رکھتی ہیں کہ جو بائیڈن ہی امریکی عوام کو متحد کرسکتے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی ہمارے لیے جنگ لڑی ہے۔‘‘

جو بائیڈن نے ان کے انتخاب کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہیرس ملک کی شائستہ ترین سرکاری خدمت گزاروں میں سے ایک ہیں۔‘‘

کمالا ہیرس امریکا کی ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھتی ہیں۔ان کے انتخاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بائیڈن نے کمال وضع داری اور وسیع الظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے گذشتہ عوامی مباحثوں کے دوران میں کمالا کے تابڑ توڑ حملوں کو نظر انداز کردیا ہے۔

وہ کیلی فورنیا کی پہلی سیاہ فام اٹارنی جنرل منتخب ہوئی تھیں اور امریکی سینیٹ میں کیلی فورنیا کی نمایندگی کرنے والی بھی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔

جوبائیڈن کی انتخابی مہم کی ویب گاہ پر ان کی کمالا ہیرس کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی گئی ہے اور اس کو یہ عنوان دیا گیا ہے:’’ہم مل کر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دیں گے۔‘‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حریف جوبائیڈن کے اس انتخاب پر فوری طور پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوڑے کو امریکا کے لیے غلط قرار دیا ہے۔

لیکن سابق صدر براک اوباما نے کمالا ہیرس کے نائب صدارتی امیدوار کے طور پر انتخاب کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ جو بائیڈن نے اس انتخاب سے اپنے فیصلے اور کردار کی اہمیت اجاگر کردی ہے۔وہ ایک ٹویٹ میں لکھتے ہیں:’’ اب آگے بڑھیے اور اس چیز(صدارت) کو جیت لیجیے۔‘‘

کمالا ہیرس کا ڈیمو کریٹک پارٹی کی نائب صدارتی امیدوار کی حیثیت سے انتخاب کے لیے متعدد سرکردہ امیدواروں کے ساتھ سخت مقابلہ تھا۔ان مقبول عام امیدواروں میں امریکا کی قومی سلامتی کی سابق مشیر سوسن رائس ،ایلزبتھ وارن ،ٹیمی ڈک ورتھ اور ریاست مشی گن کی گریچن وٹمر کے نام شامل ہیں۔

سوسن رائس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’وہ بائیڈن اور ہیرس کی جیت کے لیے اپنی مقدور کوشش کریں گی۔‘‘ مشی گن کی گورنر گریچن وٹمر کا کہنا تھا کہ ’’وہ ان دونوں کی حمایت کرکے غیرمعمولی فخر محسوس کرتی ہیں۔‘‘