.

جوبائیڈن نے امارات اور اسرائیل میں امن معاہدے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کو ایک "تاریخی قدم" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

سابق نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل مشرق وسطی کا اٹوٹ انگ ہے اور ایک حقیقی وجود پر مبنی ریاست ہے۔ اسرائیل اور ہمسایہ عرب ممالک کے مابین مزید تعاون کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے خطے میں باہمی تعاون کے لیے گذشتہ کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

خارجہ تعلقات میں تجربہ رکھنے والے سابق نائب صدر نے اپنے حریف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ معاہدے کے بارے میں ایک بیان میں کہا کہ آج اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے مشرق وسطی میں گہری تقسیم کو ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو عوامی طور پر تسلیم کرنے کی پیش کش خوش آئند اور جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ یہ انتہائی ضروری سیاسی اقدام ہے۔اس فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل مشرق وسطیٰ کا لازمی حصہ بن جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکا کی ثالثی کے تحت متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے تاریخی امن معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عوض مغربی کنارے میں مقبوضہ علاقوں کے الحاق کا اپنا منصوبہ معطل کرنے پر اتفاق کیا۔

جوبائیڈن نے کہا فلسطینی اراضی کا الحاق امن کے مقصد کے لیے ایک تباہ کن دھچکا ہوگا۔ اسی وجہ سے میں اب اس کی مخالفت کر رہا ہوں اور میں صدر کی حیثیت سے اس کی مخالفت کروں گا۔ فلسطینی اراضی کے اسرائیل سے الحاق کے نتیجے میں دو ریاستی حل کا وجود ختم ہو جائے گا۔

جوبائیڈن نے اپنے بیان میں ٹرمپ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ "بظاہر انتظامیہ" کی کوششوں کا نتیجہ ہے ، بشمول اوباما-بائیڈن انتظامیہ جس نے ٹرمپ سے پہلے وسیع تر عرب اسرائیل تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی تھی۔

بائیڈن ، جنہوں نے مشرق وسطی کے معاہدے سے ایک روز قبل کیلیفورنیا کی سینیٹر کملا ہیرس کو نائب صدر منتخب کیا تھا۔