.

یونان اور ترکی کے جنگی بحری جہازوں کا مشرقی بحر متوسط میں ٹاکرا،کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان اور ترکی کے جنگی بحری جہازوں کا مشرقی بحر متوسط میں ٹاکرا ہوا ہے۔یونان کے دفاعی ذرائع نے واقعہ کو حادثہ قرار دیا ہے جبکہ انقرہ نے اس کواشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو میں شامل دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس میں اسی ہفتے ترکی کے خطے میں سروے کے لیے بحری جہاز بھیجنے کے بعد سے مزید اضافہ ہوا ہے۔ ترکی نے اس سروے جہاز کے ساتھ جنگی بحری جہاز بھی روانہ کیے ہیں۔

یونان اور ترکی کے درمیان تیل اور گیس کو نکالنے کے لیے سمندر میں ڈرلنگ کے معاملے پر کشیدگی پائی جارہی ہے۔دونوں ممالک ہی بحر متوسط کے مشرقی علاقے پر اپنی اپنی خود مختاری کے دعوے دار ہیں۔

ترکی کا سمندر میں سروے کے لیے جہاز قبرص اور یونان کے درمیان واقع جزیرے کریٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس کے دائیں بائیں یونان کے جنگی بحری جہاز بھی ہیں۔بدھ کو ان میں سے ایک جہاز لیمنوس ترکی کے سروے جہاز کی جانب بڑھ رہا تھا تووہ اس کے ساتھ رواں دواں ترکی کے جنگی بحری جہازوں میں سے ایک کمال ریس کے سامنے آ گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق یونانی جنگی جہاز نے ترکی کے جہاز کے ساتھ بالکل سامنے سے تصادم سے بچنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران میں اس کا درمیانہ حصہ ترک جہاز کے پچھلے حصے سے معمولی ٹکرا گیا تھا۔یونان کے دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے میں لیمنوس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور اس نے جمعرات کو کریٹ کی ساحلی حدود میں فرانس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشق میں حصہ لیا تھا۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نے جمعہ کو سوئٹزر لینڈ میں ایک بیان میں کہا ہے کہ یونان کو معقول انداز میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یورپی یونین پر زوردیا ہے کہ وہ یونان کی غیرمشروط حمایت اور اس کو تھپکی دینے سے باز آجائے۔

انھوں نے یونان کو واضح لفظوں میں خبردار کیا ہے کہ وہ اورچ ریس کو اشتعال دلانے سے گریز کرے ورنہ اسے جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوئٹزر لینڈ نے ترکی اور یونان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی ہے اور انقرہ نے اس سے اصولی اتفاق کیا ہے۔

دریں اثناء ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ بحری جہاز کمال ریس نے یونانی بحری جہازوں کے حملے کو پسپا کردیا ہے۔ انھوں نے بھی جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

یورپی یونین کی کونسل کے صدر چارلس مشعل نے گذشتہ روز ترک صدر ایردوآن کے ساتھ فون پر گفتگو کی تھی اور ان پر واضح کیا تھا کہ ان کی تنظیم یونان کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔انھوں نے کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ اشتعال انگیزی سے گریز کیا جانا چاہیے اور مکالمے کو ترجیح دی جانے چاہیے۔