.

اسرائیل اوریو اے ای میں امن معاہدے کے بعد فون رابطے بحال ، ویب گاہیں اَن بلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تاریخی امن معاہدے کے بعد فون پر رابطے پر بحال ہوگئے ہیں اور پہلے سے بند ویب گاہیں کھول دی گئی ہیں۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر برائے تزویراتی ابلاغ ہند العتیبہ نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ’’اماراتی وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان اور ان کے اسرائیلی ہم منصب گابی اشکنازی نے دونوں ملکوں کے درمیان فون رابطے کا افتتاح کیا ہے۔‘‘

اسرائیل اور یو اے ای میں فون روابط کی بحالی کے ساتھ ہی بعض ویب گاہیں بھی ان بلاک کردی گئی ہیں۔اسرائیل کی خبری ویب گاہ ’’دا ٹائمز آف اسرائیل‘‘ بھی اتوار کو یواے ای میں آن لائن دستیاب تھی۔اس سے پہلے اماراتی حکومت نے اس ویب گاہ کو ملک میں بلاک کررکھا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات معمول کے مکمل سفارتی تعلقات قائم کریں گے اور اسرائیل اس کے بدلے میں غربِ اردن میں فلسطینیوں کی مزید اراضی کو نہیں ہتھیائے گا۔

اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس ڈیل کو’’معاہدۂ ابراہیم‘‘ (ابراہام اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے۔اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔

اس کے تحت اب اسرائیل اور یو اے ای کے وفود آیندہ ہفتوں کے دوران میں ملاقات کریں گے اور وہ سرمایہ کاری ، سیاحت ، براہ راست پروازیں شروع کرنے ، سکیورٹی ، ٹیلی مواصلات ، ٹیکنالوجی ، توانائی ، تحفظ صحت ، ثقافت ، ماحول اور ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے اور بعض دوسرے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف سمجھوتوں پر دست خط کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادی اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت نے اس امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔