.

بیروت دھماکے سے سیکڑوں لبنانی بچے مضر نفسیاتی مسائل کے شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی ماہرین کے مطابق بیروت کی بندرگاہ پر 4 اگست کو ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد افراد ذہنی صدمے کا شکار ہوئے، جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت پر مضر اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

بیروت کا رہائشی تین سالہ رہائشی حمود ایسی ہی ایک مثال ہے۔ حمود دھماکے کے روز اپنی والدہ، خالہ اور نانی کے ہمراہ ایک مقامی سپر مارکیٹ میں خریداری میں مصروف تھا۔ دھماکے کے بعد ننھا حمود کئی روز تک بد حواسی کی حالت میں رہا۔

حمود کی والدہ سری انتی کے مطابق "دھماکے کے بعد سے اب تک حمود نے ایک بھی لفظ نہیں بولا، [حمود] بول نہیں سکتا۔ اس کی آنکھیں اسی طرح [کھلی] رہتی ہیں۔

لبنان کے ماہرین نفسیات دھماکے کے بعد بیروت کے بچوں کی سرگرمیوں میں صدمے کے مختلف اثرات دیکھ رہے ہیں۔

لبنان کے ماہر نفسیات لویل تاباسکو کے مطابق "[دھماکے سے متاثرہ افراد میں] نفسیاتی اثرات میں جارح مزاجی، تنہائی پسندی، اونچی آواز کا خوف، ڈراؤنے خواب وغیرہ شامل ہیں۔"

بیروت دھماکے کے نتیجے میں 80 ہزار بچے بے گھر ہوئے جبکہ اس میں زخمی ہونے والے چھ ہزار افراد میں ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے فورا بعد اکثر بچے اپنے والدین کے ساتھ نہ تھے۔ لبنانی ماہر چائلڈ ڈیویلپمنٹ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں مصائب کے شکار بچے اپنی جوانی میں متاثر ہو سکتے ہیں۔

حمود کے ذہنی صدمے کی ظاہری علامات تو دور ہوچکی ہیں مگر اس کی نفسیات پر پڑنے والے اثر کے باعث مستقبل میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔