.

اسرائیلی موساد کے سربراہ اوراماراتی مشیر کا دوطرفہ سکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن نے متحدہ عرب امارات کے مشیر برائے قومی سلامتی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ یوسی کوہن کے امارات کے دورے کے موقع پر یہ ملاقات ہوئی ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ دونوں میں یہ ملاقات کہاں ہوئی ہے۔

وام کے مطابق ’’طرفین نے سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے اور ایک دوسرے سے علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفتوں اور کووِڈ-19 کی وَبا پر قابو پانے کے لیے دونوں ملکوں کی کاوشوں سمیت مشترکہ مفادات سے متعلق امور کے بارے میں بات چیت کی ہے۔‘‘

گذشتہ ہفتے اسرائیل اور یواے ای کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بعد یوسی کوہن امارات کا دورہ کرنے والے اسرائیل کے پہلے سرکاری عہدہ دار ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

اس ڈیل کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اعلان کیا تھا۔انھوں نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے لیڈر اب آیندہ ہفتوں کے دوران میں کسی وقت وائٹ ہاؤس میں اس امن معاہدے پر دست خط کریں گے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادیِ اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت نے اس امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس ڈیل کو’’معاہدۂ ابراہیم‘‘ (ابراہام اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے۔اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔اس کے بعد اسرائیل کی بعض دوسرے عرب ممالک کے ساتھ ایسے ہی امن معاہدوں اور سفارتی و تجارتی تعلقات کی بحالی کی رہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔

قبل ازیں عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔