.

سوڈانی وزارتِ خارجہ کا اسرائیل سے روابط کی نفی سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے امن معاہدے کے بعد سے روز ایک نئی پیش رفت سامنے آرہی ہے اور اب میڈیا میں سوڈان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے متعلق پس پردہ سرگرمیوں کی خبریں منظرعام پر آرہی ہیں۔

سوڈان کی وزارت خارجہ کے ترجمان حیدر بداوی الصادق نے منگل کے روز اپنے ملک کے اسرائیل ساتھ روابط سے انکار نہیں کیا ہے اور بہ الفاظ دیگر یہ کہا ہے کہ دونوں ملکوں میں یہ روابط موجود ہیں۔

ان سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ کیا اسرائیل اور سوڈان کے درمیان براہِ راست روابط موجود ہیں۔انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’ میں اس کا انکار نہیں کرسکتا‘‘۔

جب ترجمان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا سوڈان اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ طے کرنے یا معمول کے تعلقات استوار کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوئی اقدامات کررہا ہے؟ تو اس کے جواب میں بھی انھوں نے کہا کہ ’’ میں اس کی بھی تردید نہیں کرتا ہوں۔‘‘

سوڈان کے اب تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں۔اس کے باوجود اسی سال فروری میں سوڈان کی خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔

حیدر بداوی الصادق نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدے کو دلیرانہ قدم قرار دیا ہے۔ یو اے ای سے سفارتی تعلقات کے بدلے میں اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادیِ اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔