.

یو اے ای ،اسرائیل امن معاہدہ ایک مثبت تزویراتی تبدیلی ہے: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے امور خارجہ انور قرقاش نے کہا ہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ عرب ریاستوں کے لیے ایک مثبت تزویراتی تبدیلی کا غماز ہے۔

انور قرقاش نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ امریکا کی ثالثی میں اس امن معاہدے کے بعد بھی عرب ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ امن میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔

وہ لکھتے ہیں: ’’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابھی سب سے اہم امور کے بارے میں معروضی مکالمہ ہونا باقی ہے۔‘‘

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’مذاکراتی عمل میں شریک ممالک اور قابل احترام عالمی شخصیات نے اس نئے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور خطے میں تزویراتی تبدیلی کو سراہا ہے۔‘‘

مصر اور اردن دونوں نے یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ اس نئے عرب امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بحرین اور عُمان نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادیِ اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت نے اس امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس ڈیل کو’’معاہدۂ ابراہیم‘‘ (ابراہام اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے۔اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔

قبل ازیں عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔

ترکی نے اس معاہدے کی مذمت کی ہے اور یواے ای کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے حالانکہ اس کے اپنے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار ہیں۔

اماراتی وزیر مملکت نے اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ بہادر اماراتی ساکت پانیوں میں آگے بڑھے ہیں۔منظرنامے میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے اور اس کے ذریعے عرب دنیا نے النکبہ ، النکسہ اور خانہ جنگیوں کی دردآمیز تاریخ پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔‘‘