.

افغانستان : بم دھماکوں اور حملے میں پانچ افراد ہلاک ،15 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل اور شمالی علاقے میں بم دھماکوں اور ملک کے جنوب میں ایک مسلح حملے میں پانچ افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان پولیس کے مطابق کابل میں بدھ کے روز سرکاری ملازمین کو بم حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان بم دھماکوں میں ایک پولیس افسر سمیت دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر دارالحکومت کے شمال میں واقع صوبہ بغلان کے دارالحکومت پُلِ خمری میں صوبائی محکمہ سراغرسانی کی گاڑی پر حملہ کیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔صوبائی گورنر کے ترجمان نذیر نجم کے مطابق مرنے والوں اور زخمیوں میں سرکاری ملازمین اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔

جنوبی صوبہ اورزگان میں واقع ترین کوٹ شہر میں انٹیلی جنس چیف کی گاڑی پر مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔صوبائی گورنر کے ترجمان زلگے عبادی نے بتایا ہے کہ ضلع کے انٹیلی جنس چیف حملے میں ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔کابل میں دو اور بم دھماکے بھی ہوئے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ کابل میں بم دھماکوں سے آگاہ نہیں ہیں۔

دریں اثناء ایک اور سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے کابل میں منگل کے روز ایک مارٹر حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس حملے میں دو سرکاری ملازمین سمیت تین افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے تھے۔ان میں خواتین اور بچے بھی تھے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیں نے بتایا تھا کہ نے جنگجوؤں نے دو گاڑیوں سے شہر کے مختلف علاقوں کی جانب متعدد راکٹ فائر کیے تھے۔قبل ازیں اس حملے میں صرف دس افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب افغان اپنا یومِ آزادی منا رہے تھے۔

داعش نے کہا ہے کہ انھوں نے کابل میں صدارتی محل ، سفارت خانوں اور سرکاری دفاتر کو نشانہ بنانے کے لیے سولہ مارٹر گولے فائر کیے تھے۔افغان حکام کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر گولے شہری علاقوں میں مکانوں پر گرے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں