.

'سنیپ بیک' کی مخالفت پر مائیک پومپیو کا یورپی یونین پر ایران کی مدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز سلامتی کونسل میں ایران پر تمام سابقہ پابندیوں کی بحالی کے امریکی مطالبے کو مسترد کیے جانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے یورپی ممالک پر ایران کے 'غیرقانونی تصرفات' پر تہران می مدد کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ انہوں‌ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے پابندیوں کی بحالی کی مہم میں واشنگٹن کا ساتھ دے۔

دوسری طرف یورپی ممالک نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا سنہ 2018ء کو ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے نکل گیا تھا۔ اس لیے اب امریکا کے پاس تہران کے خلاف جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں 'اسنیپ بیک' کا طریقہ کار اختیار کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں رہا ہے۔

مائیک پومپیو نے نیویارک میں نامہ نگارو‌ں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے سوا کسی دوسرے ملک میں یہ جرات نہیں کہ وہ ایران کی جوہری خلاف ورزیوں پر سلامتی کونسل یا کسی دوسرے فورم پر بات کرے۔ اس کے برعکس یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کر کے تہران کی جوہری خلاف ورزیوں میں اس کی مدد کی ہے۔ جرمنی ، فرانس اور برطانیہ جیسے ہمارے دوستوں نے نجی ملاقاتوں میں مجھے بتایا کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ اسلحہ کی پابندی توسیع ختم کی جائے۔ مگر آج ان ملکوں‌ نے امریکا کے بجائے ایران کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہ ظاہر کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن نہیں ہے۔ امریکا ایران کو بیلسٹک میزائلوں کے حصول اور ترقی سے روکے گا۔ ایران کی سرحد پار ممالک میں مداخلت جاری ہے اور وہ عراق ، یمن اور شام میں امن کو تباہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے نے مشرق وسطی کے استحکام میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع نہ کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔

پومپیو نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف (اسنیپ بیک) پابندیوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ روس اور چین "اسنیپ بیک" کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں نے ایرانی ملیشیاؤں کی مالی مدد کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ حزب اللہ اب ہماری پابندیوں کی وجہ سے مشکل سے دوچار ہے۔