.

اسکالر شپ پر زیر تعلیم سعودی نوجوان نے جاپانی زبان پر 3 کتابیں لکھ ڈالیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک ہونہار نوجوان نے سعودی اور جاپانی عوام کے درمیان تہذیبی قربت کی کاوش کے سلسلے میں نہ صرف جاپانی زبان میں مہارت حاصل کی بلکہ عربی زبان میں جاپان اور جاپانی زبان کے بارے میں تین کتابیں بھی تالیف کر دیں۔

اسکالر شپ پر جاپان جانے والا سعودی نوجوان احمد حنبولی 2014ء سے ٹوکیو کی ٹوکائی یونیورسٹی میں انڈسٹریل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ وہ حال ہی میں تعلیم مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوا ہے۔

حنبولی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ "جاپانی ثقافت کافی مشکل ہے۔ اس لیے کہ یہ تربیت، کھانے پینے اور ہم آہنگ ہونے کے حالے سے مختلف ہے۔ اسی واسطے بیرون سے آنے والوں کو ان بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے"۔

اپنی کتابوں کے حوالے سے حنبولی کا کہنا تھا کہ "مارکیٹ میں جاپانی زبان سیکھنے کے لیے عربی زبان میں کتابوں کی قلّت ہے۔ یہ وہ نمایاں ترین نکتہ ہے جس نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں کتابوں کے ذریعے اس زبان کی تعلیم کو آسان بناؤں، اس سلسلے میں جدید عصری طریقے کے مطابق تصاویر اور گرافکس کا استعمال کیا گیا۔ بہت سے لوگ جاپانی زبان کے مشکل اور پیچیدہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، لہذا میں نے چاہا کہ ایک ایسے طریقے پیش کروں جو اس زبان کی تعلیم کو آسان بنا دیں، خواہ وہ جاپان میں موجود بیرون سے آئے عرب طلبہ ہوں یا اب نئے آنے والے طلبہ"۔

حنبولی کے مطابق ٹوکیو میں سعودی سفیر نائف الفہّادی کی جانب سے ملنے والی سپورٹ نے اس کے اندر اس نوعیت کی مزید ثقافتی اور ادبی کاوشوں کی تخلیق کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ سعودی طالب نے کہا کہ "بہت سے پُر جوش نوجوان ہمارے ملک کی عظمت کا پرچم بلند کرنے کے لیے تیار ہیں. یہاں آئے ہوئے سعودی طلبہ نے گذشتہ برس ایک ثقافتی لیکچر پیش کیا تھا. یہ بعض کھانوں کے بارے میں تھا .. ٹوکیو میں اسلامی عربک انسٹی ٹیوٹ نے بعض کھانے تیار کیے تھے اور ان کا تجربہ مثتب تھا۔ اسی طرح ہم نے جاپانی ٹی وی چینل NHK میں اپنے وطن کی نمائندگی کی۔ اس موقع پر ہم نے سعودی ثقافت اور کھجور کا تعارف پیش کیا .. جاپان کے لوگ اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں. جاپانی عوام کھجور کی صفات اور بھرپور غذائیت کے بارے میں جان کر حیران رہ گئے. انہوں نے آرڈر دے کر خریداری شروع کر دی. اس پروگرام کے 1.2 کروڑ فالوورز ہیں. اس پروگرام کا اتنا زیادہ اثر ہوا کہ ٹوکیو میں موجود کھجور کی دکانوں پر آرڈرز کی قطاریں لگ گئیں. اسی طرح 'ثوب' (طویل لباس) اور 'شماغ' (رومال) نے ہمارے قومی لباس کی ایک نفیس تصویر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کی"۔