.

’’امریکا ایران پراسلحہ کی پابندی کے دوبارہ نفاذ کے لیے بھرپورسفارتی کوششیں کرے گا‘‘

جی سی سی کے رکن ممالک مشرقِ اوسط کی سکیورٹی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں: ترجمان محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی کے دوبارہ نفاذ کے لیے آیندہ ماہ سفارتی کوششیں تیز کردے گا کیونکہ ایران کا کردار یہ ظاہر کررہا ہے کہ اگر اس پر پابندی میں توسیع نہیں کی جاتی ہے تو اس کو اکتوبر میں روایتی اسلحہ خرید کرنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان مورگن اورٹاگس نے العربیہ سے ہفتے کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ایران کو ایک شاندار موقع مہیا کیا گیا تھا لیکن اس نے یہ موقع ضائع کردیا۔چناں چہ آج اسی وجہ سے ہمیں یہ دن دیکھنا پڑرہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ایران میں نظام کے برتاؤ میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ انھیں اکتوبر میں روایتی ہتھیار خرید کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔‘‘

ایران پر اسلحہ کی پابندی کی ابتدائی مدت اکتوبر 2018ء میں ختم ہوگئی تھی لیکن امریکا اس کے بعد بھی اس میں دو سال کی توسیع کرانے میں کامیاب رہا تھا۔ترجمان نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے (مشترکہ جامع لائحہ عمل) پر بھی تنقید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کی بدولت ایران کو اربوں ڈالر تک رسائی مل گئی تھی۔ان ہی میں سے اس نے یمن میں حوثیوں اور شام ، عراق اور لبنان میں تباہی پھیلانے کے لیے اپنی آلہ کار تنظیموں کو اسلحہ مہیا کیا تھا۔

امریکا کو ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے لیے کوششوں میں تین یورپی ممالک جرمنی ، فرانس اور برطانیہ ، چین اورروس کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے جبکہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) ، اسرائیل اور ڈومنیکن ری پبلک اس کی حمایت کررہے ہیں۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کی بحالی کے لیے جمعرات کو باضابطہ طور پر شکایت پیش کی تھی۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے عالمی ادارے سے ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی برقرار رکھنے کی بھی درخواست کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ امریکا کے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ملک پر اسلحے کی پابندی کے دوبارہ نفاذ کی صورت میں سنگین مضمرات کی دھمکی دی ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ امریکا کی اس تحریک کا اب کوئی جواز نہیں رہا ہے۔چین نے بھی ایران کے خلاف اسلحہ کی پابندی میں توسیع کی سخت مخالفت کی ہے۔

اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل دس روز میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کے نفاذ کے خلاف ایک قرارداد متعارف کرائے گی اور اس پر رائے شماری کرے گی۔اگر یہ قرارداد منظور نہیں ہوتی ہے تو ایران کے خلاف از خود آیندہ تیس دن کے اندر دوبارہ سخت پابندیاں عاید ہوجائیں گی۔اگر سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کو نفاذ سے روکنے کےلیے کوئی قرارداد پیش کی جاتی ہے تو امریکا اپنا ویٹو اختیار استعمال کرسکتا ہے۔

اورٹاگس کا کہنا تھا کہ ’’ہم نے ہمیشہ درست اقدامات کیے ہیں اورہم امریکی شہریوں ، خلیج میں اپنے اتحادیوں اور اسرائیل کے لیے جو بہتر ہوگا، وہ کریں گے۔‘‘انھوں نے خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے ایران کے خلاف دوبارہ پابندیوں کے نفاذ سے متعلق مشترکہ مؤقف کو سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں جو کوئی بھی حملہ کرتا ہے تو اس کا پہلا ہدف جی سی سی ممالک ہی ہوتے ہیں۔اس لیے ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔وہ اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ مشرقِ اوسط بالخصوص خلیج کی سلامتی اور استحکام کے لیے کیا بہتر ہے،اسی لیے ہم ان کی حمایت کررہے ہیں۔‘‘