.

سیٹلائیٹ نے چین کے زیرآب فوجی اڈے کا پتا چلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک مصنوعی سیارے نے چین کے ایک زیر زمین زیرآب فوجی اڈے کا پتا چلا کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیٹلائٹ نے چین کے زیر زمین فوجی اڈے کی تصاویر اس وقت لیں جب ایک جوہری آبدوز جنوبی بحیرہ چین میں ایک جزیرے پر موجود اڈے کے اندر اتر رہی تھی۔

اس نایاب منظر میں ایک چینی آبدوز کو بحیرہ جنوبی چین کے جزیرے ہینان پر زیر زمین اڈے کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
امریکی "پلاٹ لیبز" امیجنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے مصنوعی سیارہ کے ذریعہ کھینچی گئی اس تصویر کو سب سے پہلے ریڈیو فری ایشیاء کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع کیا گیا تھا اور اس پر ردعمل کی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔

اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع کے سابق ملازم ڈریو تھامسن جو اب سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں لی کوآن ییو اسکول آف پبلک پالیسی میں کام کرتے ہیں نے 'سی این این' کو بتایا کہ اس طرح کی تصویر لینا واقعی اتفاقیہ ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے۔ اگرچہ چینی زیر زمین اڈے کی موجودگی سراسر غیر معمولی ہے۔ تاہم سیٹلائٹ کا اس کی تصاویر لینا بھی غیر معمولی ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ اس طرح اپنی فوجی تنصیبات کو چھپا دیتا ہے۔ آبدوزوں سے لے کر دور دراز کے علاقوں میں واقع میزائل سسٹم تک کو چین زیرزمین رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینیوں کو زیر زمین تنصیبات کی تعمیر کا زبردست تجربہ ہے۔ یہ ان کے اسٹریٹجک کلچر کا حصہ ہے۔

یولین بیس ہین کانگ سے 300 میل (470 کلو میٹر) جنوب مغرب میں ہینان جزیرے کے جنوبی سرے پر واقع ہے۔ یہ اڈہ سمندری ذخائر کی حفاظت کے لیے چین کی ایک بنیادی تنصیب ہے۔

جہاں تک آبدوز کی بات ہے تھامسن نے کہا کہ اڈے پر اس کی موجودگی چینی نیوی سے کوئی خاص اشارہ یا معلومات بھیجنا نہیں ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ان میں آبدوزوں کا ایک بڑا بیڑا ہے۔ ان کے معیار میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ زیر زمین تنصیبات کی مدد سے اس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔