.

بھارت: پانچ منزلہ اقامتی عمارت منہدم ،کم سے کم 90 افراد دب کر رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ میں سوموار کی شام ایک پانچ منزلہ اقامتی عمارت اچانک منہدم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 90 افراد دب کررہ گئے ہیں۔

بھارتی پولیس کے مطابق منہدم شدہ عمارت 35 سے 40 فلیٹوں پر مشتمل ہے اور یہ صوبائی دارالحکومت ممبئی سے 160 کلومیٹر جنوب میں مہاڑ شہر میں واقع ہے۔فوری طور پر اس حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

مہاڑ پولیس اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ منہدم عمارت کے ملبے سے 17 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے اور انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔امدادی ٹیمیں ملبے تلے پھنسے باقی افراد کو نکالنے کےلیے کوشاں ہیں اور دبے ہوئے افراد کو ڈھونڈنے کے لیے سراغرساں کتوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں جون سے ستمبر تک موسم برسات میں اس طرح عمارتیں منہدم ہونے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ عمارتی ڈھانچا بناتے وقت کے وقت فن تعمیر کے رہ نما اصولوں کی پاسداری نہ کرنا ہے۔اس کے علاوہ بوسیدہ عمارتیں بھی سیلاب اور شدید بارشوں کی تاب نہیں لاسکتی ہیں اور وہ ڈھے پڑتی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے ممالک میں مون سون کے موسم میں بارشیں فصلوں کے لیے تو نعمت ثابت ہوتی ہیں لیکن ان سے بالخصوص دیہی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی بھی ہوتی ہے اور گارے سے بنی یا پرانی عمارتیں منہدم ہوجاتی ہیں۔اس سال اب تک جنوبی ایشیا کے ممالک میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں 1200 سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ان میں سے 800 ہلاکتیں صرف بھارت میں ہوئی ہیں۔