.

ویڈیو اسکینڈل ،کویتیوں کی جاسوسی کے ذمے داروں کو سزا دی جائے گی: ولی عہد شیخ نواف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کے ولی عہد الشیخ نواف الاحمد الجابر الصباح نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ریاست کے شہریوں کی جاسوسی سے متعلق ویڈیوز افشا کرنے کے ذمے داروں کو سزا دی جائے گی۔ انھوں نے یہ انتباہ حال ہی میں بعض ویڈیوز کے افشا ہونے کے بعد جاری کیا ہے۔ان میں کویت کی ریاستی سکیورٹی کے اہلکار شہریوں کی جاسوسی کرتے پائے گئے ہیں۔

کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کونا کے مطابق شیخ نواف نے ایک نشری تقریر میں ان ویڈیوز کو لوگوں کی آزادیوں اور نج کی زندگی میں دراندازی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا کوئی بھی ذمے دار سزا سے بچ نہیں پائے گا۔

کویت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے یہ تقریر وزیراعظم ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد کی ہے۔

کویت میں 2018ء میں رونما ہونے والے بعض سکیورٹی واقعات سے متعلق ایک ویڈیو کے افشا ہونے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ ویڈیو بعض سینیر سرکاری حکام کی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی سے متعلق ہے۔وہ بالخصوص ملائشیا کے 1 ایم ڈی بی خود مختار فنڈ کے اسکینڈل سے تعلق رکھنے والے افراد کی نگرانی کررہے ہیں۔کویت ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس وقت اس اسکینڈل کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

شیخ نواف نے اس معاملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میری ذاتی توجہ اس جانب مبذول ہوئی ہے۔اب ناگزیر امر یہ ہے کہ ہرکوئی اس طرح کے ضرررساں مواد کی تشہیر سے باز آجائے۔اس سے صرف قوم کے دشمن ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور صرف وہی لوگ فائدہ اٹھائیں گے جو قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس ویڈیو کے جاری ہونے کےفوری بعد کویت کے وزیر داخلہ انس الصالح نے اسٹیٹ سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ اور سات افسروں کو معطل کردیا ہے،ان کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہے اور یہ معاملہ فوجداری تفتیش کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کردیا گیا ہے۔

شیخ نواف نے اس ایشو پر سوشل میڈیا کی بعض رپورٹس کی ’’انحرافی اور گم راہ کن نوعیت‘‘ پر خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے کویت کے معاشرے پر’’تباہ کن اور تخریبی اثرات‘‘ مرتب ہوئے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ’’ہم بعض گم کردہ راہ لوگوں کو جعلی آزادی کے نام پر اپنے ملک میں تقسیم اور طوائف الملوکی کے بیج بونے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

تاہم کویتی ولی عہد نے جمہوری آزادی کے بارے میں اپنے ذاتی عزم کا اظہار کیا ہےاور کہا ہے کہ’’ وہ اظہار رائے کی آزادی میں پختہ یقین رکھتے ہیں۔ہمارا ایک ایسی جمہوری اپروچ کے بارے میں عزم پختہ ہے جس میں عدم یقین اور شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘