.

جوہری معاہدے میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کو نظر انداز کرنے کی حماقت ہوئی : پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ اُن کا ملک ایران کے احتساب اور خطے میں اس کی تخریبی سرگرمیاں روکنے کا عزم رکھتا ہے۔

منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں پومپیو نے کہا کہ امریکی انتظامیہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پومپیو نے لکھا کہ "امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں (اسنیپ بیک) دوبارہ فعال کرنے اور تہران پر ہتھیاروں کی پابندی برقرار رکھنے کے ذریعے ایران کی تمام تخریبی سرگرمیوں کا احتساب کیا جائے گا .. وہ ہی سرگرمیاں جن کو جوہری معاہدہ تحریر کرنے والوں نے حماقت کے سبب نظر انداز کر دیا تھا"۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ملک کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی۔

یاد رہے کہ امریکا نے گذشتہ ہفتے ایران پر جامع پابندیوں کے دوبارہ سے خود کار اطلاق کا میکانزم فعال کرنے کی درخواست پیش کی تھی۔ مائیک پومپیو نے رواں ماہ کے لیے سلامتی کونسل کے سربراہ انڈونیشیا کے مستقل مندوب دیان دجانی کو امریکا کی جانب سے شکایت کی دستاویز پیش کی تھی۔ اس میں کہا گیا کہ ایران جوہری معاہدے اور قرار داد 2231 کی پاسداری نہیں کر رہا ہے لہذا 'اسنیپ بیک' پابندیوں کو دوبارہ فعال کیا جائے۔