.

رفیق حریری کا قاتل حزب اللہ کے حکم پر ہلاکتوں کی 4 کارروائیوں میں شامل رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری قتل کیس میں بین الاقوامی عدالت نے گذشتہ ہفتے سنائے جانے والے فیصلے میں حزب اللہ کے ایک رکن سلیم عیاش کو قصور وار ٹھہرایا۔ اس حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ عایش نے حزب اللہ کے حکم پر قتل کی کم از کم 4 کارروائیاں انجام دیں۔

اخبار نے امریکا کے علاوہ یورپ اور مشرق وسطی کے تین ممالک کے موجودہ اور سابقہ سیکورٹی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ سلیم عیاش حزب اللہ کے "یونٹ 121" کا رکن تھا جو ہلاکتوں کی کارروائیاں انجام دینے کے لیے مخصوص ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے ایک سابق ذمے دار نے جو رفیق حریری کے قتل کے بعد انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے کی کوششوں میں بھی شریک رہا ،،، اس کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی شک نہیں کہ مذکورہ کارروائی کی نگرانی حزب اللہ نے کی۔

اس امریکی ذمے دار کے مطابق حزب اللہ کے ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے چار شخصیات کو ہلاک کرنے کی کارروائیاں ایسی تھیں جن میں سلیم عیاش شریک رہا۔ ان چار مقتول شخصیات میں لبنان کی داخلہ سیکورٹی کا افسر وسام عید (جو رفیق حریری قتل کی تحقیقات کر رہا تھا)، وسام الحسن (لبنان میں داخلہ سیکورٹی فورس کے جنرل ڈائریکٹریٹ میں شعبہ معلومات کا سربراہ اور رفیق حریری کی سیکورٹی کا ذمے دار)، لبنانی فوج کا میجر جنرل فرانسوا الحاج اور سابق وزیر اور ماہر معاشیات محمد شطح شامل ہیں۔

یہ تمام افراد 2007ء سے 2013ء کے درمیان کار بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

ایک ہفتہ قبل لبنان میں بین الاقوامی عدالت نے اپنے فیصلے میں حزب اللہ کے رکن 56 سالہ سلیم عیاش کو رفیق حریری قتل کیس میں مجرم قرار دیا تھا جب کہ 3 ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔

عدالت کے مطابق اس حوالے سے کوئی شک و شبہہ نہیں کہ سلیم عیاش اس سازش میں شریک تھا۔ عیاش سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے دانستہ قتل کے جرم میں ملوث اور قصور وار ہے۔ عدالت نے مزید بتیایا کہ سلیم عیاش قتل کے 5 مقدمات میں ملزم ہے جن میں رفیق حریری قتل بھی شامل ہے۔

رفیق حریری کے قتل کے بعد تحقیقات اور حزب اللہ کے چار ارکان کے خلاف غائبانہ عدالتی کارروائی میں 15 برس لگ گئے۔ اس دوران مجموعی اخراجات کا حجم تقریبا ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔