.

دریا میں ڈوبتے شہری کی جان بچانے والے سعودی طالب علم کو آسٹریلیا کا تمغہ شجاعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے گورنر جنرل نے حال ہی میں سعودی عرب کی القصیم یونیورسٹی میں اسکالرشپ کے تحت زیرتعلیم ایک طالب علم احمد المحمید کو ایک آسٹریلوی شہری کی زندگی بچانے میں مدد کرن پر 'تمغجہ شجاعت' سے نوازا ہے۔ المحیمید پہلا غیر آسٹریلوی شہری ہے جسے اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب المحمید ایک شام اپنے دوستوں کے ساتھ دریائے ڈاک لینڈ کے آس پاس سیر کے لیے گیا۔ اس نے کسی کی مدد کے لیے پکار سنی۔ جب وہ آواز کے منبع کے قریب پہنچا اس نے دیکھا کہ ایک پچاس سالہ شخص دریا کے وسط میں غوطے کھا رہا ہے اور مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ دریا میں شارک مھچلیوں‌کی موجودگی کے باوجود اس نے پانی میں چھلانگ لگائی اور تیرتے ہوئے ڈوبنے والے شخص کے قریب پہنچ کر اسے بہ حفاظت بچا لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی طالب علم نے کہا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ سعودی معاشرے کے اخلاق اور اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مجھے اس وقت فخر محسوس ہوا جب مجھے آسٹریلیائی ریاست میں گورنر جنرل کی جانب سے آسٹریلیائی تمغہ شجاعت دینے کا اعلان کیا گیا۔

اس نے مزید کہا کہ میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور اکاؤنٹنگ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ہے۔ میں وطن واپس چلا گیا۔ جب کہ دریا میں ڈوبنے والے شخص کی زندگی بچانے والا واقعہ دو سال پرانا ہے۔

دوسرے کی زندگی بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے کے سوال پر احمد المحمید نے کہا کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے میں نے اپنا فون اور اپنا بٹوہ جیب سے نکال کر باہر رکھا اور اس شخص کی بھاری جسامت کے باوجود اس کو بچانے کے لیے پانی میں کود گیا۔ اس شخص کا وزن 120 کلوگرام تھا۔ مجھے میلبرن کے گورنر نے اس شخص کے کنبہ کی موجودگی میں میر استقبال کیا۔

القصیم یونیورسٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ سعودی طالب علم کی جرات اور بہادری کو آسٹریلوی گورنر جنرل کی جانب سے غیرمعمولی پذیرائی دی گئی ہے اور انہوں‌نے المحمید کی شجاعت اور بہادری کو سراہا ہے۔