.

سعودی عرب: کووِڈ-19کے مشتبہ کیس کا پتا چلنے کے بعد تفریحی کروزشپ کی بندرگاہ پر واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا سیاحتی بحری جہاز کرونا وائرس کے ایک مشتبہ کیس کا پتا چلنے کے بعد اپنا سفر مکمل کرنے سے قبل ہی بندرگاہ پر لوٹ آیا ہے۔

’’سلور سپرٹ‘‘ نامی اس کروز شپ نے جمعرات کو شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کی بندر گاہ سے اپنے پہلے سفر کا آغاز کیا تھا۔ سعودی عرب کے اس پہلے تفریحی بحری جہاز میں سیاحت کے شوقین افراد سوار ہیں اور انھیں بحیرہ احمر کے کنارے واقع مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کرائی جارہی تھی۔

اس جہاز پر سوار العربیہ کے نمایندے عبدالرحمٰان الاسیمی نے بتایا ہے کہ ’’اس (ہفتے کی) صبح ہمیں سلور سپرٹ کروز شپ کی انتظامیہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک خط موصول ہوا تھا۔اس میں ایک خاتون کے کووِڈ-19 کا شکار ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔اس خط میں اس امر کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس خاتون مریضہ کو جہاز میں اس مخصوص خانے میں الگ تھلگ کردیا گیا ہے جس کو کرونا وائرس کے مشتبہ کیسوں کے لیے پہلے ہی مختص کردیا گیا تھا۔‘‘

العربیہ کے نمایندے نے مزید بتایا ہے کہ ’’اس تفریحی جہاز نے کل اتوار کی صبح اپنا سفر مکمل کرنا تھا لیکن یہ آج ہفتے کے روز شاہ عبداللہ اکنامک سٹی کی بندرگاہ پر لوٹ آیا ہے تاکہ جہاز پر سوار تمام مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز کے تمام مسافروں کو الگ تھلگ کرنے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔نیز کرونا کے مذکورہ مشتبہ کیس کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اس جہاز کی انتظامیہ کے مطابق اس کے سفر کے آغاز سے قبل سوار ہونے والے تمام افراد کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے تھے اور اس پر اس کی کل گنجائش کے مقابلے میں صرف 75 فی صد افراد کو سوار کیا گیا تھا تاکہ سماجی فاصلے کی شرط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیز جہاز پر سوار ہونے والے تمام افراد کے کووِڈ-19 کے جامع ٹیسٹ کیے گئے تھے۔