.

ترکی کی جیلوں میں ایک سال کے دوران 4 بھوک ہڑتال قیدی ہلاک: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے ترکی کی حکومت کے زیرانتظام جیلوں میں قید بھوک ہڑتالی قیدیوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اضافے پر گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے یہ گذشتہ ایک سال کے دوران ترکی کی جیلوں میں کم سے کم چار قیدی بھوک ہڑتال کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی یونین کی طرف سے کل ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں بھوک ہڑتال کرنے والی ایک خاتون وکیل کی موت ملک میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ثبوت ہے۔

بیان میں یورپی یونین نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کے نتیجے میں رواں سال کے آغاز سے ترک جیلوں میں موت کا شکار ہونے والا یہ یہ چوتھا فرد وکیل ابررو ٹیمٹک ہے۔ اس سے قبل دو موسیقاروں ہیلین بلیک اور ابراہیم گوکائک کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ اپوزیشن کا حامی تیسرا شخص مصطفی کوکاک تھا جو بھوک ہڑتال کے نتیجے میں دم توڑ گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چاروں حراست میں لیے گئے افراد کی ہلاکت اور منصفانہ ٹرائل کی عدم موجودگی ترکی میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت کا تقاضا کرتی ہے۔ ترکی میں گذشتہ چند برسوں کے دوران انسانی حقوق کی صورت حال تیزی سے خراب ہوئی ہے۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی کو فوری طور پر قانون کی حکمرانی میں بنیادی بہتری اور بنیادی آزادیوں کے احترام کرنا ہو گا۔
یورپی یونین کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے گذشتہ روز کہا کہ یورپی یونین نے ترکی کی جیل میں مسلسل 238 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد ایبرو ٹیمٹیک کی موت پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔

ترکی میں تقریبا 8 ماہ قبل بھوک ہڑتال شروع کرنے والی کُرد خاتون ایڈوکیٹ اِبرو تیمتک جمعرات کی شام استنبول میں انتقال کر گئی۔ بھوک ہڑتال کے باعث جیل میں اِبرو کی حالت بگڑ جانے کے بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ خاتون ایڈوکیٹ نے غیر معینہ مدت کے لیے اپنی بھوک ہڑتال کا آغاز 5 فروری سے کیا تھا۔

انسانی حقوق کے ایک ادارے نے انقرہ میں مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے اعلان کیا کہ ابرو 238 روز کی بھوک ہڑتال کے بعد فوت ہو گئی۔

اِبرو کے بھوک ہڑتال شروع کرنے کے تقریبا ایک ماہ بعد اس کا ایک تُرک ساتھی وکیل بھی ابرو کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہو گیا تھا۔ عرب نژاد ترک وکیل آیتاج اونسال کو ابرو کے ساتھ ستمبر 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وکلاء کی انجمن کی جانب سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری ساتھ ابرو تیمتک کی حرکت قلب رک گئی ہے جس نے انصاف کی خاطر اپنی زندگی قربان کر دی۔ انجمن نے اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر کی گئی ٹویٹ میں کہا کہ "عوامی وکیل ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گی"۔