.

فرانس کا ترکی سے انسانی حقوق کی پامالیاں بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے ہفتے کے روز ترکی کی جیل میں دوران حراست بھوک ہڑتال کے دوران جاں بحق ہونے والی خاتون وکیل کے معاملے پر انقرہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فرانس کا کہنا ہے کہ ترکی میں کسی وکیل کو جیل میں طویل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں دم توڑنا ملک میں انسانی حقوق کی ابتری کا واضح ثبوت ہے۔ فرانس نے ایک بار پھر ترکی سے ملک میں انسانی حقوق کا احترام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں دکھ ہے کہ خاتون قانون دان کو ایبرو تیمیک منصفانہ عدالتی سہولیات فراہم نہیں کی گئیَ۔ اسے جیل میں بھوک ہڑتال پرمجبور کیا گیا اور بھوک ہڑتال جاری رکھنے اور اس کی حالت بگڑنے کے باوجود اس کی بات نہیں سنی گئی۔ خاتون وکیل کی بھوک ہڑتال سے ترکی کی جیل میں موت نے ترک حکومت کی جمہوریت اور بنیادی انسانی آزادیوں کے حوالے سے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

خیال رہے کہ ایک دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے الزام میں خاتون وکیل کو سنہ 2019ء میں قید کیا گیا اور اسے 13 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بیالیس سالہ خاتون وکیل تیمتک نے رواں سال فروری میں اپنے آئینی مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔