.

’’کرونا کی وَبا خدماتِ صحت میں پیش رفت کومختصروقت میں تہس نہس کرسکتی ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ دنیا کے 90 فی صد سے زیادہ ممالک میں کرونا وائرس کی وَبا نے صحتِ عامہ کے نظام کو تہس نہس کردیا ہے اور گذشتہ عشروں کے دوران میں تحفظ صحت کے ضمن میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیاں مختصروقت میں مٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

جنیوا میں قائم ڈبلیو ایچ او نے کرونا وائرس کے صحت عامہ کی خدمات پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے ملکوں کا ایک تفصیلی سروے کیا ہے اور سوموار کے روز اس کی رپورٹ جاری کی ہے۔

اس کے مطابق’’کووِڈ-19 کی وَبا کے صحت کی لازمی خدمات پر اثرات گہری تشویش کا ذریعہ ہیں۔گذشتہ دو عشروں کے دوران میں صحت کے شعبے میں حاصل ہونے والی بڑی کامیابیوں کا مختصر وقت میں ختم ہو سکتی ہیں۔‘‘

اس سروے میں مئی سے جولائی تک 100 سے زیادہ ممالک کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔ان اعداد وشمار کے مطابق کرونا کی وَبا سے سب سے زیادہ جو خدمات متاثر ہوئی ہیں، ان میں قطرے پلانے یا ٹیکے لگانے کی معمول کی خدمات (70 فی صد) خاندانی منصوبہ بندی ( 68 فی صد) ، سرطان کی تشخیص اور علاج ( 55 فی صد) سرفہرست ہیں۔ان کے علاوہ سروے میں جواب دینے والے ایک چوتھائی ممالک میں ہنگامی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے وضع کردہ مشرقی بحرمتوسط کا خطہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس میں افغانستان ، شام اور یمن جیسے ممالک شامل ہیں۔اس کے بعد افریقا اور جنوب مشرقی ایشیا کے خطے ہیں۔ براعظم امریکا میں واقع ممالک اس سروے میں شامل نہیں تھے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق چین کے شہر ووہان سے دنیا کے دوسرے ملکوں میں گذشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد سے کم سے کم ساڑھے آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ بعض جگہوں پر صحت کی خدمات تہس نہس ہونے کی وجہ سے کووِڈ کے علاوہ بھی دوسرے امراض سے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم ان ہلاکتوں کی درست تعیّین مشکل ہے اور اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے اس رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’’صحت عامہ کی خدمات میں آنے والے بگاڑ اور خرابیوں کو اس وَبا کے خاتمے کے بعد بھی محسوس کیا جائے گا کیونکہ حفظان صحت کی خدمات کی بحالی کے عمل میں ممالک کو وسائل کی قلّت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘