.

امازون کمپنی کو پارسل ڈلیوری کے لیے ڈرون طیارے استعمال کرنے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ہوابازی کی وفاقی انتظامیہ کے مطابق امازون کمپنی نے اپنے ڈلیوری ڈرون طیاروں کے آپریشن کے لیے منظوری حاصل کر لی ہے۔ اس اہم پیش رفت کے نتیجے میں Prime Air کے زیر انتظام مذکورہ ڈرون (بغیر انسان کے چلنے والے) طیاروں کے استعمال کے ذریعے اپنی ڈلیوری کے دائرہ کار کو وسیع کر سکے گی۔

وفاقی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اب امازون کمپنی کے چھوٹے ڈرون طیاروں کو پارسلوں کے پیکٹ لے کر جانے کی اجازت ہو گی۔

دنیا کے سب سے بڑے آن لائن اسٹور امازون کا کہنا ہے کہ وہ ہوابازی کی وفاقی انتظامیہ کی جانب سے جاری سرٹفکیٹ کو صارفین تک ڈلیوری جانچنے کے آغاز کے لیے استعمال میں لائے گی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں بھرپور تربیت حاصل کی گئی ہے اور اس بات کی تفصیلی دلائل پیش کیے گئے ہیں کہ ڈرون طیاروں کے ذریعے ڈلیوری کا آپریشن محفوظ ہو گا۔

پرائم ایئر کے نائب سربراہ ڈیوڈ کیربون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہوابازی کی وفاقی انتظامیہ کی جانب سے حاصل ہونے والا سرٹفکیٹ آگے کی جانب بڑھنے کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ یہ ڈرون طیاروں کے ذریعے امازون کمپنی کے ڈلیوری آپریشن پر انتظامیہ کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک روز ہم ساری دنیا میں ڈلیوری کے لیے ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہوں گے"۔

واضح رہے کہ امازون کمپنی نے اربوں ڈالر کی رقم خرچ کی ہے تا کہ ڈلیوری کی مدت کو دو روز سے کم کر کے ایک روز تک کر دیا جائے۔

امازون کمپنی نے 2013ء میں ڈرون طیاروں کے ذریعے ڈلیوری کا تجربہ کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مطلوبہ پارسلوں کو 30 منٹ یا اس سے بھی کم عرصے میں صارفین کے دروازوں تک پہنچا دیا جائے۔ اگست 2019ء میں امازون نے ہوابازی کی وفاقی انتظامیہ کو دخواست پیش کی تھی تا کہ ڈرون کے ذریعے ڈلیوری کے منصوبوں کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

امازون کمپنی نے 2019 کی (re:MARS) کانفرنس کے دوران بجلی سے چلنے والے ڈرون طیارے کا تجربہ کیا تھا۔ یہ طیارہ آدھے گھنٹے کے اندر صارفین کے لیے کسی بھی پارسل کو (جس کا وزن 5 پونڈ سے زیادہ نہ ہو) لے کر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ 15 میل تک کے فاصلے تک اڑ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امازون وہ واحد کمپنی نہیں جو کمرشل ڈرون طیاروں کے ذریعے ڈلیوری آپریشن کو وسیع کرنے کے واسطے کوشاں ہے۔ رواں سال اپریل میں Wing کمپنی وہ پہلی کمپنی تھی جس نے امریکا میں ڈرون طیاروں کے ذریعے ڈلیوری کے واسطے ہوابازی کی وفاقی انتظامیہ سے مںظوری حاصل کی۔