سعودی عرب کی مشترکہ افواج کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک شاہی فرمان کے تحت سعودی عرب کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف سمیت متعدد اہم عسکری عہدیدران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق برخاست کیے جانے والے عہدیداروں میں مملکت کی مشترکہ فوج کے کمانڈر ان چیف اور الجوف ریجن کے ڈپٹی شامل ہیں۔

مشترکہ فوج کے کمان دار فھد بن ترکی بن عبدالعزیز اور الجوف ریجن کے نائب شہزادہ عبدالعزیز بن فھد بن ترکی بن عبدالعزیز عہدوں سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے مقدمے بدعنوانی کے تحقیقات کے لئے متعلقہ اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

دونوں حکام کے خلاف فیصلہ وزارت دفاع کے معاملات میں کرپشن سے متعلق اطلاعات سامنے آنے پر اٹھایا گیا۔

شاہی فرمان کے تحت وزارت دفاع کے متعدد دوسرے فوجی اور سول عہدیداروں کو بھی کرپشن سے متعلق مقدمات کی تحقیق کی خاطر ان کے کیسز عدلیہ کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف کارروائی کا یہ تازہ مرحلہ ہے۔

اکیس اگست کو مملکت کے جنوب مشرقی العلا سیاحتی منصوبے، بحیرہ احمر میگا پراجیکٹ اور سعودہ ڈیوپلمنٹ کمپنی کو کرپشن کے شبہے میں متعدد سرکاری حکام کو ان کے عہدوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ برس فروری میں سعودی عرب میں سرکاری مصارف کے استعمال کی نگرانی کے لیے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ اس ادارے کا مینڈینٹ ملک سے کرپشن کا خاتمہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں